اپ ڈیٹ 03 فروری 2026 07:20pm

پاکستان کو ترکیہ میں شیڈول امریکا ایران مذاکرات میں شرکت کی دعوت

ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا اور ایران کے درمیان ترکیے میں ہونے والے مذاکرات میں پاکستان کو شرکت کی دعوت ملنے کی تصدیق کردی ہے۔

پاکستان اور ترکیہ کی امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کم کرنے کی کاوشیں رنگ لائیں اور اب دونوں ملک مذاکرات کے لیے راضی ہوچکے ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ طاہر اندرابی کے مطابق امریکا نے پاکستان کو استنبول میں جمعے کو ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی ہے اور اس مذاکرات میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ امریکا، ایران مذاکرات بیک ڈور ڈپلومیسی سے ممکن ہوئے، پاکستان اور ترکیے نے شدید تناؤ کے درمیان سفارتی کاوشوں کے ذریعے ایران کو امریکا سے بات چیت کے لیے راضی کیا۔

ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ استنبول میں شیڈول مذاکرات میں ایران کے ایٹمی پروگرام اور دیگر معاملات پر بات ہوگی۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمہ کے لیے پاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو ویٹکوف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے اور دونوں ممالک کے درمیان ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق جاری تنازع سفارت کاری کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں کریں گے تاکہ خطہ نئی جنگ سے بچ جائے۔

ایک عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں ترجیح کسی تنازع سے بچنا اور دونوں ممالک کے درمیان تنازعات میں کمی لانا ہے اور مذاکرات میں خطے کی طاقتوں کے ایک گروپ کو بھی دعوت دی گئی ہے۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ استنبول میں مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان، سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کو دعوت دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بڑا بحری بیڑا ایران کی جانب گامزن ہے، اگر ڈیل طے نہ ہوئی تو ایران کے لیے برے نتائج ہوں گے۔ امریکی صدر کے مطابق، ایک طرف فوجی تیاری جاری ہے جب کہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکا نے جنگ شروع کی تو یہ تنازع پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکا کا بحری جہاز گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف پرتشدد احتجاج کے دوران ایران کے قریب تعینات کردیا گیا تھا۔

Read Comments