اپ ڈیٹ 03 فروری 2026 06:32pm

سابق بھارتی آرمی چیف کی کتاب پر تنازع، راہول گاندھی کو گفتگو سے روک دیا گیا

بھارت کی پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کی تقریر کے دوران سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نراوانے کی کتاب کا تذکرہ کرنے پر حکومتی اراکین بھڑک اٹھے اور راہول گاندھی کو بات کرنے سے روک دیا۔ یہ کتاب سابق آرمی چیف کے فوجی کیریئر کے تجربات اور بھارت کی دفاعی حکمت عملی کے تجزیے پر مشتمل ہے، تاہم بھارتی وزارتِ دفاع نے اس کتاب کی اشاعت پر پابندی عائد رکھی ہے۔

بھارتی پارلیمنٹ کے اجلاس میں پیر کے روز اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کی تقریر کے دوران ایوان کا سیاسی ماحول کشیدگی کا شکار ہوگیا، جس کے بعد بھارت میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

ایوان اس وقت ہنگامہ آرائی کا شکار ہوا جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے سابق آرمی چیف جنرل منوج نراوانے کی آپ بیتی سے اقتباسات کو پڑھنا شروع کیا۔ جس پر حکومتی اراکین نے شور شرابا شروع کر دیا اور راہول گاندھی کو کتاب پر گفتگو سے منع کیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی نے تقریر کے دوران بھارت کی دفاعی تیاریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک میگزین کے آرٹیکل کا حوالہ دیا تھا، جس میں جنرل نراوانے کی کتاب کے اقتباسات شائع ہوئے ہیں۔

اس آرٹیکل کے مطابق 2020 میں جب لداخ میں بھارت اور چین کی سرحد پر کشیدگی کے دوران جب دونوں ملکوں کے فوجی دستے آمنے سامنے آگئے تھے، تو اسی دوران اطلاع موصول ہوئی کہ چینی ٹینک بھارتی فوج کی پوزیشنز کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں۔ تاہم آرمی چیف نے اِس معاملے پر حکومت سے واضح احکامات طلب کیے تو سیاسی قیادت نے پورا معاملہ فوج پر ڈال دیا۔

راہول گاندھی نے جیسے ہی یہ اقتباسات پڑھنا شروع کیے تو ایوان میں شدید ہنگامہ شروع ہوگیا، وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیرِ داخلہ امیت شاہ فوراً نشستوں سے کھڑے ہوئے اور اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے اعتراض کیا کہ ایوان کے قواعد کے تحت کسی ایسی کتاب یا تحریر کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا جو ابھی شائع ہی نہیں ہوئی۔ اس شور شرابے کے باعث راہول گاندھی مزید گفتگو نہ کرسکے۔

اسپیکر نے بھی پارلیمانی قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے راہول گاندھی کو گفتگو سے روک دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے سخت احتجاج کیا۔

راہول گاندھی نے بی جے پی رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ اقتباسات اس لیے پڑھنا چاہتا ہوں تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ کون محبِ وطن ہے اور کون نہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت اس کتاب کی اشاعت کو صرف اس لیے روک رہی ہے کیونکہ یہ چین کی جارحیت کے سامنے مودی حکومت کی بے بسی اور حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ایک کتاب سے اتنا گھبرائی ہوئی ہے کہ اُسے پڑھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

جنرل منوج مکند نراوانے کا مجموعی فوجی کیریئر 42 سال پر محیط ہے اور وہ بھارتی فوج کے 28 ویں آرمی چیف رہے ہیں۔ انہوں نے 31 دسمبر 2019 کو جنرل بپن راوت کی جگہ عہدہ سنبھالا تھا اور 30 اپریل 2022 کو عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔

ان کے دور میں ہی لداخ میں گلوان وادی کے مقام پر بھارتی اور چینی افواج کے درمیان شدید سرحدی کشیدگی پیدا ہوئی تھی جس میں بھارتی فوج کے مطابق 20 اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پارلیمنٹ میں ہنگامے کی وجہ بننے والی کتاب سابق آرمی چیف جنرل منوج مکند نراوانے کی غیر مطبوعہ کتاب ’فور اسٹارز آف ڈیسٹِنی‘ ہے۔ جس کے اقتباسات گزشتہ دنوں ’دی کاروان‘ نامی جریدے میں شائع ہوئے۔

اپنی یادداشت پر مبنی کتاب میں جنرل نراوانے نے 2020 میں ’گلوان‘ کے مقام پر بھارتی اور چینی افواج کی جھڑپ سے متعلق انکشاف کیا ہے کہ 31 اگست کی رات مشرقی لداخ میں سرحدی علاقے میں جھڑپ کے بعد چینی ٹینک بھارتی پوزیشنز کے انتہائی قریب پہنچ گئے تھے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ جب انہوں نے سیاسی قیادت (وزیرِ دفاع اور وزیراعظم) سے جوابی کارروائی یا فائرنگ کے لیے احکامات مانگے، تو انہیں واضح حکم دینے کے بجائے کہا گیا کہ ’جو مناسب سمجھو وہ کرو‘۔ جنرل نراوانے کے بقول یہ ان کے ہاتھ میں ’گرم آلو‘ تھمانے جیسا تھا تاکہ تمام تر ذمہ داری فوج پر ڈال دی جائے۔

واضح رہے کہ یہ کتاب جنوری 2024 میں شائع ہونی تھی، لیکن بھارتی وزارتِ دفاع نے حساس معلومات اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا حوالہ دے کر اس کی اشاعت روک رکھی ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے راہول گاندھی نے اس صورتحال کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کو صدر کے خطاب پر بات کرنے سے روکا گیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم سخت دباؤ میں ہیں اور اسکی وجہ صرف میں اور نریندر مودی ہی جانتے ہیں، جس سے ان کی شہرت کا غبارہ پھوٹ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈرے ہوئے ہیں، اِسے لیے اُنہیں ایوان میں گفتگو نہیں کرنے دی جارہی ہے۔

راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ایپسٹین فائلز میں کچھ ایسا ہے جو ابھی ریلیز نہیں ہوا ہے اور یہ نریندر مودی کے لیے پریشر پوائنٹ ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت پر گوتم اڈانی کے خلاف امریکا میں کیس اور ایپسٹین فائلز کا شدید دباؤ ہے۔

راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ نریندر مودی حالیہ بھارت امریکا تجارتی معاہدے کے بعد غیر مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ کئی ماہ سے زیر التوا تھا، تاہم اچانک اُسے حتمی شکل دے دی گئی جس سے واضح ہوتا ہے کہ مودی حکومت اس وقت شدید بیرونی دباؤ کا شکار ہے۔

Read Comments