شائع 03 فروری 2026 11:28am

ایپسٹین فائلز میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا ذکر

امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی تازہ ’ایپسٹین فائلز‘ میں جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد کے طرزِ زندگی اور روابط سے متعلق کئی چونکا دینے والے اور متنازع انکشافات سامنے آئے ہیں۔ وہیں ان میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بھی ذکر ہے۔

ایپسٹین فائلز سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے جڑے نیٹ ورک، تعلقات اور خط و کتابت پر مشتمل ہیں، جن میں سیکڑوں معروف شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔

ان دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام بھی متعدد بار آیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئی فائلز نے انہیں کسی بھی غلط کام سے بری کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ان دستاویزات میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں جو ان پر کسی غیر قانونی سرگرمی کا الزام ثابت کرے۔

جمعے کے روز جاری ہونے والی ان نئیی دستاویزات میں پاکستان سے متعلق چند تذکرے بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم یہ حوالہ جات، دستاویزات میں شامل بعض طاقتور عالمی شخصیات سے متعلق سنگین انکشافات کے مقابلے میں نسبتاً کم نوعیت کے سمجھے جا رہے ہیں۔

پاکستان سے متعلق حوالہ جات فائلز میں محدود ہیں اور زیادہ تر سرسری نوعیت کے ہیں۔

مثال کے طور پر جیفری ایپسٹین اور مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس کی ٹیموں کے درمیان ای میلز میں پولیو کے خاتمے کے پروگرام کا ذکر کئی بار آیا ہے۔

ان ای میلز میں بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے سابق مشیر بورس نیکولک کا نام بھی نظر آتا ہے۔

ایک ای میل میں ایک نامعلوم شخص ایپسٹین کو آگاہ کرتا ہے کہ پاکستان اور نائجیریا میں پولیو ٹیموں پر حملے ہو رہے ہیں اور اس سے پوچھتا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے بہتر بنانے کا سوچیں گے۔

ایک اور ای میل میں ایپسٹین کو پاکستانی شلوار قمیض کے لیے پسند کا اظہار کرتے پایا گیا، جبکہ اسی سے جڑی ایک اور ای میل میں اسے بتایا جاتا ہے کہ پاکستان سے ملبوسات کے پانچ جوڑوں کی ایک کھیپ جلد پہنچنے والی ہے۔

ایپسٹین اور جے پی مورگن کے اعلیٰ عہدیدار جیس اسٹیلی کے درمیان 2010 میں ایک ای میل کا تبادلہ بھی سامنے آیا، جس میں ایپسٹین کو مختلف غیر ملکی شخصیات کے ساتھ ”نجی وقت“ دلوانے کا ذکر موجود ہے۔

اس فہرست میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا نام بھی شامل ہے، جو اس وقت یوسف رضا گیلانی کی حکومت میں یہ عہدہ رکھتے تھے اور اس وقت قید میں ہیں۔

دستاویزات میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا ذکر بھی ملتا ہے۔

بورس نیکولک اور ایپسٹین کے درمیان ایک ای میل سے ظاہر ہوتا ہے کہ بل گیٹس پاکستانی میڈیا میں آنے والی اس خبر پر ناخوش تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ان کی عمران خان سے فون پر بات ہوگی تاکہ وہ افغانستان کو پولیو مہم کے لیے راضی کر سکیں۔

بل گیٹس کو خدشہ تھا کہ اس قسم کی خبریں پولیو پروگرام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

ستمبر 2018 کی ایک اور ای میل میں گولڈمین سیکس کے جیڈ زیٹلِن ایپسٹین کو لکھتے ہیں کہ ان کے خیال میں ”عمران کی قیادت سست رفتار کار حادثے کی طرح ہے، چاہے چین کی حمایت ہی کیوں نہ ہو“۔

Read Comments