شائع 03 فروری 2026 10:04am

روسی تیل چھوڑنے کے بدلے ٹیرف میں نرمی: بھارت امریکا سے نئے معاہدے کی شرط پر عمل کر پائے گا؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور بھارت کے درمیان ایک بڑا تجارتی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت امریکا بھارتی اشیا پر عائد ٹیرف میں کمی کرے گا اور بھارت روسی تیل خریدنے سے دستبردار ہو گا، جبکہ دونوں ممالک اپنے اپنے تجارتی تعلقات کو مضبوط کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے مودی کو اپنا ”عظیم دوست، طاقتور اور معزز رہنما“ قرار دیا۔

ٹرمپ کے مطابق، دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں تجارت اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے جیسے معاملات بھی زیرِ بحث آئے۔

ٹرمپ نے کہا کہ مودی نے روسی تیل کی خریداری ختم کرنے اور امریکا اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔

ٹرمپ نے مزید لکھا کہ یہ قدم جنگ کے خاتمے میں مدد دے گا۔

صدر ٹرمپ کے مطابق امریکا اور بھارت کے تجارتی معاہدے کے تحت امریکا نے بھارتی اشیاء پر لگنے والے باہمی ٹیرف کو پچیس فیصد سے گھٹا کر اٹھارہ فیصد کر دیا ہے، اور بھارت بھی امریکی اشیا پر اپنے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں (non-tariff barriers) کو صفر تک لانے کے لیے آگے بڑھے گا۔ اس کے علاوہ، بھارت نے امریکی توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت اور دیگر شعبوں میں پانچ سو بلین ڈالر سے زیادہ کی اشیاء خریدنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔

مودی نے سوشل میڈیا پر اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ سے بات چیت پر خوش ہیں اور بھارتی مصنوعات پر ٹیرف میں کمی کے اعلان پر انہوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، تاہم انہوں نے روسی تیل خریدنا بند کرنے کے وعدے کا براہِ راست ذکر نہیں کیا۔

تاہم اس اعلان کے فوراً بعد یہ سوالات بھی سامنے آ گئے ہیں کہ آیا بھارت واقعی روسی تیل سے مکمل طور پر دستبردار ہو سکے گا یا نہیں۔

عالمی تجارتی ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے ’کلپر‘ کے مطابق بھارت اس وقت روزانہ تقریباً پندرہ لاکھ بیرل روسی تیل درآمد کر رہا ہے، جو اس کی مجموعی تیل درآمدات کا ایک تہائی سے زیادہ بنتا ہے۔ یہ درآمدات اس وقت بھی جاری رہیں جب امریکا نے پہلے بھارت پر اضافی ٹیرف عائد کیے تھے۔

ماہرین کے مطابق وینزویلا کا تیل معیار کے لحاظ سے روسی تیل سے ملتا جلتا ہے، جو بھاری اور گاڑھا ہوتا ہے اور ڈیزل اور فرنس آئل جیسے ایندھن بنانے کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کی ریفائنریاں پہلے ہی ایسے تیل کو پراسیس کرنے کے لیے تیار ہیں۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ وینزویلا کا تیل کا شعبہ طویل عرصے سے زبوں حالی کا شکار ہے اور اس کی پیداوار کو ماضی کی سطح، یعنی روزانہ تیس لاکھ بیرل سے زیادہ تک لانے کے لیے کئی سال اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

اس کے علاوہ بھارت اس وقت روس سے جتنا تیل خریدتا ہے، وینزویلا اتنا تیل پیدا ہی نہیں کرتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ روسی تیل کی مکمل جگہ لینا فوری طور پر ممکن نہیں۔

ان کے مطابق اس کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری درکار ہو گی، تاہم طویل مدت میں اس سے روسی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

روسی تیل یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کی زد میں ہے اور چین کے بعد بھارت اس کا سب سے بڑا خریدار ہے، جبکہ ترکیہ تیسرے نمبر پر آتا ہے۔

بھارتی حکومت ماضی میں روسی تیل کی خریداری کا دفاع کرتی رہی ہے اور اسے توانائی کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی رہی ہے۔

بھارت دنیا میں تیل استعمال کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے اور تیزی سے بڑھتی معیشت کے لیے اسے سستے اور قریب دستیاب توانائی ذرائع درکار ہیں۔

روسی تیل اوپیک اور امریکی تیل کے مقابلے میں فی بیرل تقریباً سولہ ڈالر سستا رہا ہے، جس کی وجہ سے بھارت کے لیے اسے چھوڑنا مشکل تھا۔

تاہم حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، جس سے پابندیوں والے اور غیر پابندیوں والے تیل کے درمیان قیمت کا فرق کم ہو گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس کے ساتھ اگر امریکی ٹیرف سے بھارتی برآمدات کو ہونے والے نقصان کو بھی شامل کیا جائے تو بھارت کے لیے روسی تیل سے پیچھے ہٹنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔

ٹیرف کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی اشیا پر فوری طور پر اٹھارہ فیصد ٹیرف لاگو ہو گا، جو پہلے پچاس فیصد تھا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس میں وہ اضافی پچیس فیصد ٹیرف بھی ختم کر دیا جائے گا جو اگست میں روسی تیل کی خریداری روکنے کے لیے لگایا گیا تھا۔

اس سے پہلے مختلف رعایتوں کے باوجود بھارتی اشیا پر مؤثر ٹیرف کی شرح تقریباً پینتیس فیصد تھی۔

صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کو اپنا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت امریکی اشیا پر اپنے ٹیرف صفر تک لانے اور کچھ غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے پر بھی آمادہ ہو گیا ہے۔ ان رکاوٹوں میں عموماً غیر ملکی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس یا اشیا پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ بھارت نے امریکا میں سرمایہ کاری بڑھانے اور توانائی، ٹیکنالوجی، زراعت اور کوئلے سمیت مختلف شعبوں میں پانچ سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی عندیہ دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا نے یہ معاہدہ یورپی یونین کے بھارت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ طے پانے کے بعد تیزی سے آگے بڑھایا ہے، جس سے امریکی کمپنیوں کے مفادات متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

اگرچہ بھارت امریکا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار نہیں، لیکن ٹیرف میں کمی کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔

2025 میں امریکا نے بھارت سے تقریباً پچانوے ارب ڈالر کی اشیا درآمد کیں، جن میں الیکٹرانکس، ادویات، ملبوسات اور کیمیکلز شامل ہیں، جبکہ بھارت نے امریکا سے تیل، گیس اور ہوابازی سے متعلق سامان خریدا۔

اس کے علاوہ کئی بڑی امریکی کمپنیاں بھارت میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں اور وہاں افرادی قوت پر زیادہ انحصار کر رہی ہیں، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

Read Comments