’سولو ڈائننگ‘ کیا ہے اور نوجوان اس نئے رجحان کو کیوں اپنا رہے ہیں؟
فروری کا مہینہ آتے ہی بازاروں میں سرخ گلاب، ڈنرز کے لیے میزیں اور ایسی تشہیری ایکٹیوٹیز نمایاں ہو جاتی ہیں جو خوشی کو صرف رومانوی رشتوں سے جوڑتی ہیں۔ مگر اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ماضی میں کسی ریسٹورنٹ میں اکیلے بیٹھ کر کھانا کھانے والے شخص کو اکثر تنہائی یا اداسی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔
فلموں اور ڈراموں میں بھی اکیلا کھانا کھانے والا کردار عموماً افسردہ دکھایا جاتا رہا ہے، لیکن متحدہ عرب امارات میں اب یہ تصور تیزی سے بدل رہا ہے۔
خلیج ٹائمز کے مطابق، متحدہ عرب امارات میں خاص طور پر جین زی سے تعلق رکھنے والے نوجوان اکیلے کھانا کھانے کو کمزوری نہیں بلکہ ایک شعوری اور طاقتور انتخاب سمجھنے لگے ہیں۔
جین زی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ہیں، ان کا اکیلے کھانا کھانا کسی مجبوری یا اداسی کی علامت نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا فیصلہ ہے۔ جہاں اکیلے بیٹھنا تنہائی نہیں بلکہ خود کو اہمیت دینے، آزادی محسوس کرنے اور اپنی زندگی کا ’مین کردار‘ بننے کا احساس ہے۔
ویلنٹائن ڈے کے قریب آتے ہی “سولو ڈیٹس” اور اکیلے کھانے کا رجحان اس پرانے تصور کو چیلنج کر رہا ہے کہ عوامی جگہوں پر اکیلا ہونا کمزوری ہے۔ بہت سے نوجوانوں کے لیے یہ عمل تنہائی نہیں بلکہ خود اعتمادی اور خود سے جڑنے کا ایک طریقہ ہے۔
انسان ہر دور میں اپنے ذہنی سکون کے لیے اپنی زندگی میں، عادات میں یا سوشل سرکل میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں انسان تنہا ہوکر بھی سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے مسلسل استعمال کی وجہہ سے شدید دباؤ کا شکار رہتا ہے۔ شاید یہی وجہہ ہے کہ یہ اسمارٹ جنریشن جو جین زی کہلاتی ہے، اپنے لیے ہمیشہ ایسے فیصلے لیتی ہے جو کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوتے، کیونکہ یہ نسل کسی بھی دباؤ کو پسند نہیں کرتی۔
دبئی میں مقیم 26 سالہ زینب ادیجوموکے جموہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی بار اپنی 24ویں سالگرہ پر اکیلے ریستوران میں کھانا کھایا۔ ان کے مطابق یہ تجربہ اداس نہیں بلکہ حوصلہ افزا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس لمحے انہیں احساس ہوا کہ وہ خود کے لیے بھی ویسے ہی کھڑی ہو سکتی ہیں جیسے دوسروں کے لیے ہوتی ہیں، اور یہ احساس انہیں آزادی اور خوشی دیتا ہے۔
اسی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ نورالعین ہر ہفتے اکیلے کافی پینے کو اپنا معمول بنا چکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ وقت انہیں ذہنی طور پر خود کو سنبھالنے اور آنے والے ہفتے کے لیے تیار ہونے میں مدد دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ شروع میں یہ خیال اجنبی سا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ عمل انہیں خود کو بہتر طور پر سمجھنے کا ذریعہ بن گیا۔
ماہر نفسیات عیرہ نعیم، جو میر سائیکاٹری کلینک کی بانی ہیں، بتاتی ہیں کہ اکیلا کھانا کھانے میں تکلیف کا سبب ہمارا قدیم احساسِ تعلق ہے۔ گھر میں کھانا تنہائی میں سکون دیتا ہے مگر عوام میں بیٹھنے پر لگتا ہے کہ لوگ دیکھ رہے ہیں اور ہم تنہا لگ رہے ہیں۔ تاہم جین زی کے لیے یہ خود کو ری چارج کرنے کا طریقہ ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ نوجوان آزادانہ زندگی چاہتے ہیں مگر سوشل میڈیا پر گروپ چیٹس میں رہتے ہیں۔ یہ اکیلا کھانا کھانا تنہائی کا علاج بھی ہے اور رشتوں کی نئی تعریف بھی۔
اس بدلتے رجحان کے ساتھ یو اے ای کی فوڈ اور کیفے انڈسٹری بھی خود کو ڈھال رہی ہے۔ دبئی کے پاؤس کیفے کی بانی صوفیہ فیضل نے اپنا کیفے ایسا بنایا ہے جہاں اکیلے آنے والوں کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔
ان کا کہنا ہے لوگ یہاں صرف کافی پینے نہیں آتے بلکہ جرنل لکھتے ہیں، کتابیں پڑھتے ہیں، سوچنے یا خاموشی سے وقت گزارنے کے لیے بھی آتے ہیں۔
دوسری طرف اعلیٰ درجے کے ریستورانوں میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ 2005 سے دبئی میں رہنے والے ریسٹورنٹر سہیل آنند بتاتے ہیں کہ پہلے اکیلے آنے والے بزنس ٹریولر ہوتے تھے مگر اب لوگ جان بوجھ کر اکیلے آتے ہیں، مکمل کھانا آرڈر کرتے ہیں اور اپنی شام سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سہیل خود بھی اکیلا کھانا کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے ماحول کو گہرائی سے سمجھنے اور سوچنے کا موقع ملتا ہے۔
ویلنٹائن ڈے پر یہ دباؤ سب سے زیادہ محسوس کیا جاتا ہے کہ انسان کسی کے ساتھ ہو۔ ماہرین کے مطابق اس دن بہت سے لوگ خود کو نظرانداز شدہ محسوس کرتے ہیں۔ تاہم اب نوجوان اس دن کو خود سے محبت، دوستیوں کو اہمیت دینے اور سوشل میڈیا سے فاصلے کا موقع سمجھنے لگے ہیں۔
دبئی کے کچھ کیفے اس موقع پر ایسی سرگرمیاں بھی پیش کر رہے ہیں جو خود کی دیکھ بھال اور ذہنی سکون پر توجہ دیتی ہیں، نہ کہ رومانوی تعلق پر۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وِیلنٹائن ڈے کا مطلب اب صرف جوڑے نہیں رہا ہے۔
یوں یو اے ای میں اکیلے کھانا کھانے کا رجحان محض فیشن نہیں بلکہ سماجی رویوں میں تبدیلی کی علامت بنتا جا رہا ہے، جہاں خود کے ساتھ وقت گزارنا بھی اتنا ہی قابلِ قبول سمجھا جا رہا ہے جتنا دوسروں کے ساتھ۔ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ تنہائی اب کمزوری نہیں بلکہ طاقت کا علامت بن رہی ہے۔