شائع 01 فروری 2026 02:27pm

دہشت گرد 11، 11 سال کے بچے لائے تھے: سرفراز بگٹی

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں ریاست نے کبھی طاقت کا بے جا استعمال نہیں کیا، جبکہ دہشتگرد معصوم بچوں تک کو دہشتگردی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، سیکیورٹی فورسز نے ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ کارروائیاں کرتے ہوئے صوبے کو ایک بڑے المیے سے بچا لیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کے آغاز میں شہداء اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹس سے واضح ہو چکا تھا کہ صوبے میں بڑے پیمانے پر دہشتگرد حملوں کی سازش کی جا رہی ہے، جس پر خفیہ اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے آپریشن شروع کر دیے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ شعبان اور پنجگور میں 40 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ گزشتہ 40 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 145 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ایک سال کے دوران 1500 سے زائد دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر میں ایک بلوچ خاندان کو نشانہ بنایا گیا، جس میں پانچ خواتین اور تین بچے شہید ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد بلوچ قوم کو ایندھن بنا رہے ہیں اور معصوم شہریوں کو اپنی جنگ کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ جب بھی پاکستان ترقی کرتا ہے، بھارت سازشوں پر اتر آتا ہے، کیونکہ وہ خطے میں پاکستان کی اہمیت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کالعدم بی ایل اے کوئی سیاسی جماعت نہیں جس سے مذاکرات کیے جائیں، بلکہ یہ بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنا چاہتی ہے اور محرومی کے نام پر جنگ مسلط کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگرد عام شہریوں میں شامل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں، مگر ریاست ذمہ دار ہے اور اپنے ہی شہریوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ سرفراز بگٹی کے مطابق بلوچستان میں کبھی طاقت کا بے جا استعمال ہوا ہی نہیں، بلکہ ہر کارروائی آئین اور قانون کے دائرے میں کی گئی۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دہشتگرد ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے عزائم ناکام بنا دیے۔ نوشکی میں آپریشن کے دوران کچھ وقت ضرور لگا، مگر کارروائی کامیابی سے مکمل کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بلوچستان کو امن کی طرف لے کر جائیں گے، چاہے اس کے لیے ہزار سال ہی کیوں نہ لڑنا پڑے، دہشتگردوں کے آگے سر نہیں جھکائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ بھارتی پراکسیز کے خلاف ہے اور احتجاج کے نام پر سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ رحمان گل آج بھی افغانستان میں موجود ہے اور افغان سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے، جبکہ ان کارروائیوں میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کی کوئی قوم یا قبیلہ نہیں ہوتا اور بلوچ خواتین کو ایندھن بنانے والوں پر لعنت ہے۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ دہشتگردوں نے سیف سٹی کیمروں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ 2018 کے بعد دہشتگردوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا اور اسی دوران بلوچستان سے متعدد چیک پوسٹیں بھی ختم کی گئیں۔

Read Comments