سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ اور پھر اچانک کمی کیوں ہوئی؟
تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد سونے کی قیمتوں میں چند روز کے دوران بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ہفتے کے روز بھی مقامی اور عالمی سطح پر سونے کی قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ہفتے کے روز عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 255 ڈالر سستا ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 4 ہزار 895 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گئی۔ پاکستان میں بھی سونا 25 ہزار 500 روپے فی تولہ سستا ہوا ہے۔
گزشتہ دنوں سونے کی قیمت پہلی بار 5 ہزار ڈالر فی اونس سے تجاوز کرگئی تھی جبکہ ایک موقع پر یہ 5 ہزار 500 ڈالر تک بھی جا پہنچی تھی۔
اسی طرح چاندی اور پلاٹینم کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم امریکا میں سیاسی صورتحال میں بہتری کے اشاروں کے بعد سونا، چاندی اور پلاٹینم تینوں کی قیمتیں تیزی سے نیچے آئی ہیں۔ اگرچہ قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں اضافے کی پہلی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک پر عائد کردہ ٹیرف اور مزید پابندیوں کی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو متاثر کیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں میں بے چینی بڑھی اور انہوں نے سونے جیسے محفوظ اثاثوں کا رخ کیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ پلیٹ فارم سروس ہارگریوز لینزڈاؤن کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ ایما وال کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے پیدا ہونے والا عدم اعتماد سونے کی قیمتوں میں اضافے کا اہم سبب بنا۔
سونے کی بڑھتی قیمتوں کی دوسری بڑی وجہ عالمی سیاسی کشیدگی ہے۔ یوکرین اور غزہ کی جنگوں کے علاوہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے متعلق امریکی اقدامات نے بھی عالمی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کیا۔
اسی طرح گرین لینڈ سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات نے عالمی سطح پر تناؤ بڑھایا اور امریکی ڈالر پر اعتماد کو نقصان پہنچا، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے قیمتی دھاتوں میں سرمایہ کاری کو محفوظ راستہ سمجھا۔
اس اضافے کی تیسری اہم وجہ مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی بڑے پیمانے پر خریداری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی ممالک نے امریکی پالیسیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے سونے کو بطور ریزرو ترجیح دی۔
ایما وال کے مطابق روس کے ڈالر اثاثے منجمد ہونے جیسے واقعات نے دیگر ممالک کو بھی سونے کی جانب راغب کیا۔
چین اس وقت سونے کا سب سے بڑا خریدار ہے، جہاں زیورات اور سرمایہ کاری دونوں مقاصد کے لیے سونے کی مانگ موجود ہے۔ مغربی ممالک میں بھی سرمایہ کار سونے سے منسلک کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حالیہ اضافے میں نئے خریداروں کا کردار بھی اہم رہا، جن میں ڈیجیٹل کرنسی سے وابستہ کمپنی ٹیتھر شامل ہے، جس نے اتنی بڑی مقدار میں سونا خریدا کہ اس کے ذخائر بعض چھوٹے ممالک سے بھی زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔دوسری جانب حالیہ دنوں میں امریکا میں فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کے تقرر سے متعلق صورتحال کو بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں کمی کی بڑی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے کیون وارش کو اس عہدے کے لیے نامزد کرنے کے امکانات سامنے آئے ہیں، جنہیں دیگر امیدواروں کے مقابلے میں نسبتاً بہتر انتخاب سمجھا جا رہا ہے۔ اس خبر کے بعد ڈالر کی قدر میں استحکام آیا اور سونے، چاندی اور پلاٹینم کی قیمتیں نیچے آ گئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تمام صورت حال کے باوجود دنیا میں جاری تنازعات، موجودہ اور ممکنہ نئے ٹیرف اور سیاسی بے یقینی کے باعث سونا اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ دیگر اجناس کی طرح سونے کی قیمتیں جتنی تیزی سے بڑھتی ہیں، اتنی ہی تیزی سے گر بھی سکتی ہیں۔