بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے حملے ناکام، 92 دہشت گرد ہلاک، 15 اہلکار شہید
سیکیورٹی فورسز نے بھارتی حمایت یافتہ فتنۃ الہندوستان کی جانب سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے حملوں کو ناکام بنادیا ہے۔ دہشت گردوں کے حملے میں 15 سیکیورٹی اہلکار اور 18 معصوم شہری شہید ہوئے جب کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 92 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فتتنہ الہندوستان کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے بلوچستان کا امن خراب کرنے کی کوشش کی اور 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف شہروں میں کارروائیاں کیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان حملوں کا مقصد شہریوں کو نشانہ بنا کرصوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشتگردوں کے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 18 بے گناہ شہری شہید ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے 15 بہادر سپوتوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ جوابی کارروائی میں فتنۃ الہندوستان کے تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دو روز کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ہلاک کیے گئے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو گئی ہے۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن تقریباً مکمل ہوچکا ہے، جس کی تفصیلات ابھی آنا باقی ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں نے گھر میں گھس کر بلوچ خواتین اور بچوں کو قتل کیا۔ دہشت گردوں کے حملے ہمارے حوصلے کمزور نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اپنا گرتا ہوا مورال بلند کرنے کے لیے یہ کارروائیاں کر رہے ہیں تاہم سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کامقابلہ کیا اور ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
دوسری جانب دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ بھی ادا کر دی گئی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کور کمانڈر بلوچستان اور آئی جی پولیس بلوچستان سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ آج ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مستعدی اور کامیابی سے اِن حملوں کو ناکام بنایا۔ قوم پاکستان کی سلامتی کے لئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردوں کی بزدلانہ کاروائیاں ہمارے عزم کو توڑ نہیں سکتیں بلکہ مزید مضبوط بناتی ہیں۔ دہشت گرد عناصر ریاست کی طاقت اور عوام کے عزم کے سامنے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
دہشت گردوں نے ہفتے کی صبح کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف مقامات پر شہریوں اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کارروائیاں کی تھیں جنہیں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنایا۔
سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے دوران 92 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ ان جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے 15 اہلکاروں نے شہید ہوئے۔
سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کوئٹہ میں موبائل ڈیٹا سروس غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آج اندرونِ صوبہ اور بلوچستان سے اندرون ملک کے لیے ٹرین آپریشنز بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔
جعفر ایکسپریس، بولان میل، چمن پیسنجر ٹرین اور زاہدان سیکشن پر ٹرین سروس معطل ہے جب کہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد پر روک دیا گیا ہے۔ ریلوے حکام نے متاثرہ مسافروں کے ٹکٹ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔