شائع 31 جنوری 2026 01:35pm

پابندیاں اٹھانے کے بدلے جوہری ہتھیار سے دست برداری کے لیے تیار ہیں: ایران

واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کے دوران ایران نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ مذاکرات کا اعادہ کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران ایک ایسے معاہدے کو اپنانے کے لیے تیار ہے جو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہ کرنے کی ضمانت دے اور اس کے بدلے ایران پر عائد پابندیاں ختم ہوں۔

عباس عراقچی نے اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان کے ساتھ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ایران برابری کی بنیاد پر جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم شرط یہ ہے کہ مذاکرات منصفانہ ہوں۔

انہوں نے سماجی رابطے کئ سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ”ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور وہ ایک منصفانہ اور مساوی جوہری معاہدے کو اپنانے کے لیے تیار ہے جو ہمارے عوام کے جائز مفادات کو پورا کرے؛ اس میں یہ یقین دہانی بھی شامل ہو کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے اور پابندیوں کے خاتمے کی ضمانت دی جائے گی۔“

انہوں نے زور دیا کہ ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں ناقابلِ بحث ہیں اور کسی بھی مذاکرات سے قبل دھمکیوں اور دباؤ کی فضا کو ختم کرنا ضروری ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تہران خطے میں امن و استحکام کے لیے ترکیہ کی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ رابطے کے لیے بھی تیار ہے تاکہ علاقائی امن اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے اور اس نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

عباس عراقچی یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں غیر معمولی تناؤ پایا جا رہا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شام ایران کے خلاف فوجی آپشن کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو مذاکرات کے لیے مہلت دی ہے۔

Read Comments