بھارت کے امیر طبقے کی نئی شان و شوکت، پانی لگژری بن گیا
بھارت میں جہاں صاف پانی تک رسائی آج بھی کروڑوں لوگوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، وہیں امیر طبقے میں پانی ایک نئی لگژری اور اسٹیٹس سمبل بنتا جا رہا ہے۔ بڑے شہروں میں اب پانی کو صرف پیاس بجھانے کی چیز نہیں بلکہ صحت، ذوق اور طرزِ زندگی سے جوڑا جا رہا ہے، جس کی ایک مثال شاپنگ مالز اور ریٹیل اسٹورز میں منرل واٹر کی بلائنڈ ٹیسٹنگ ہے۔
اس بلائنڈ ٹیسٹنگ میں شرکاء چھوٹے گلاسز میں فرانس، اٹلی اور بھارت کے مختلف منرل واٹر نمونے چکھتے ہیں اور ان میں موجود معدنیات، نمکین ذائقے اور گیس کا فرق محسوس کرتے ہیں۔
ان نمونوں میں فرانس کے الپس سے ایویان، جنوبی فرانس کا پیریئر، اٹلی کا سان پیلیگرینو اور بھارت میں اراؤلی پہاڑی سلسلے کے دامن سے حاصل کیا گیا منرل واٹر شامل ہوتا ہے۔
اوَنتی مہتا ایک 32 سالہ خاتون ہیں جو خود کو بھارت کی کم عمر ترین ’واٹر سوملیئر‘ کہتی ہیں، جو عام طور پر مہنگی شراب سے منسلک اصطلاح ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ہر پانی کا ذائقہ مختلف ہوتا ہے اور لوگوں کو ایسا پانی منتخب کرنا چاہیے جو غذائی اعتبار سے بھی کچھ فائدہ دے۔ ان کا خاندان ’آوا منرل واٹر برانڈ‘ کا مالک ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پریمیم پانی کی مارکیٹ تقریباً 40 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ امیر طبقے میں صحت اور فلاح و بہبود کے بڑھتے ہوئے رجحانات ہیں۔
بھارت میں ایک لیٹر پریمیم منرل واٹر کی قیمت تقریباً ایک ڈالر ہے، جبکہ درآمد شدہ برانڈز کی قیمت تین ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جو عام سستے بوتل بند پانی سے کئی گنا مہنگی ہے۔
یہ رجحان ایسے ملک میں سامنے آ رہا ہے جہاں ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کا تقریباً 70 فیصد آلودہ ہے، نلکے کا پانی پینے کے قابل نہیں سمجھا جاتا اور دسمبر میں اندور شہر میں آلودہ پانی پینے سے 16 افراد کی ہلاکت بھی ہو چکی ہے۔
اسی وجہ سے بھارت میں بوتل بند پانی کو ایک ضرورت سمجھا جاتا ہے اور 20 سینٹ کی سستی بوتلیں عام طور پر ہر جگہ دستیاب ہیں۔
مجموعی طور پر بوتل بند پانی کی بھارتی مارکیٹ کی مالیت تقریباً 5 ارب ڈالر سالانہ ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔
مارکیٹ ریسرچ ادارے ’یورومانیٹر‘ کے مطابق بھارت میں بوتل بند پانی کی طلب میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ اب پریمیم سیگمنٹ بن رہا ہے۔ 2021 میں یہ حصہ صرف ایک فیصد تھا، جو گزشتہ سال بڑھ کر آٹھ فیصد ہو گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میونسپل پانی پر عدم اعتماد اور منرل واٹر کے صحت سے متعلق فوائد کے بارے میں آگاہی اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
دہلی سے تعلق رکھنے والے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر ’بی ایس بترا‘ کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان گھر میں صرف پریمیم منرل واٹر استعمال کرتا ہے تاکہ صحت بہتر رہے۔
ان کے مطابق اس سے دن بھر توانائی محسوس ہوتی ہے اور وہ یہاں تک کہ گھر میں وہسکی کے ساتھ بھی منرل واٹر ہی استعمال کرتے ہیں، جبکہ بچے اسے اسموتھیز بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔
بھارت میں عام سستا بوتل بند پانی زیادہ تر بڑی کمپنیاں تیار کرتی ہیں، جبکہ صاحبِ حیثیت لوگ گھروں میں واٹر پیوریفائر بھی لگواتے ہیں، جو پانی صاف تو کر دیتے ہیں مگر اس میں موجود قدرتی معدنیات بھی ختم ہو جاتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مقامی اور درآمد شدہ پریمیم پانی امیر صارفین اور کاروباری اداروں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے۔
اس رجحان کو دیکھتے ہوئے بولی وُڈ اداکارہ بھومی پڈنیکر اور ان کی بہن نے بھی منرل واٹر کا برانڈ لانچ کیا ہے، جبکہ ٹاٹا گروپ اپنے پریمیم واٹر پورٹ فولیو کو وسعت دے رہا ہے۔
ٹاٹا کنزیومر پروڈکٹس کے مطابق امیر اور صحت کے حوالے سے باشعور صارفین قیمت کی پروا کیے بغیر پریمیم پانی خریدنے کے لیے تیار ہیں۔
فوڈ اسٹورز اور ریٹیل چینز بھی اس بدلتے رجحان کی تصدیق کر رہی ہیں۔
ایک گورمے اسٹور چین میں 2025 کے دوران پریمیم پانی کی فروخت تین گنا بڑھی ہے، یہاں تک کہ نیویارک سے منگوایا گیا ایک مہنگا برانڈ چند دنوں میں فروخت ہو گیا۔
آوا منرل واٹر کی فروخت بھی گزشتہ سال ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے اور کمپنی نے مسلسل تیز رفتار ترقی رپورٹ کی ہے۔
تاہم ہر کوئی اس رجحان سے متفق نہیں ہے۔
واٹر ٹیسٹنگ (پانی چکھنے) کے دوران کچھ افراد نے تجربے کو دلچسپ تو قرار دیا، لیکن قیمت کو روزمرہ استعمال کے لیے بہت مہنگا بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کے لیے اس طرح کا پانی مستقل طور پر خریدنا جیب پر بھاری پڑ سکتا ہے۔
یوں بھارت میں پانی اب صرف ایک بنیادی ضرورت نہیں رہا بلکہ ایک طبقے کے لیے لگژری اور طرزِ زندگی کی علامت بنتا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب صاف اور محفوظ پانی تک رسائی اب بھی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔