شائع 29 جنوری 2026 02:30pm

نیتن یاہو اپنے فون کے کیمرے پر ٹیپ کیوں لگاتے ہیں؟

اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے موبائل فون کے پچھلے کیمرے پر سرخ ٹیپ لگی ہونے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس کے بعد اس معاملے پر بحث شروع ہو گئی۔ وائرل تصویر میں نیتن یاہو کو یروشلم میں واقع اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ کے زیرِ زمین پارکنگ ایریا میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ اپنی سیاہ لگژری گاڑی کے قریب کھڑے ہو کر فون پر کسی سے بات کر رہے ہیں۔

اس تصویر میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو کے فون کے کیمرہ لینس اور سینسرز موٹی سرخ ٹیپ سے ڈھکے ہوئے ہیں۔

پوڈکاسٹر ماریو نافل نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ نیتن یاہو نے اپنے فون کے کیمرے پر ٹیپ کیوں لگائی ہوئی ہے اور وہ کس سے یا کس چیز سے فکرمند ہیں۔

ماریو نافل نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل کے وزیرِاعظم کو اپنے فون کی حفاظت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو عام لوگوں کو بھی اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر خود وزیرِاعظم ایسا کر رہے ہیں تو اس کا عام شہریوں کے لیے کیا مطلب نکلتا ہے، یہ ایک اہم سوال ہے۔

اس حوالے سے امریکی ادارے ہائپ فریش نے رپورٹ کیا ہے کہ نیتن یاہو کے فون پر لگی سرخ اسٹیکر یا ٹیپ کوئی اتفاقی چیز نہیں ہے۔ یہ دراصل ایک خاص قسم کی سیکیورٹی اسٹیکر ہے جسے ٹیمپر ایویڈنٹ سیل کہا جاتا ہے، اور یہ اعلیٰ سیکیورٹی والے علاقوں میں استعمال کی جاتی ہے۔

اس اسٹیکر کا مقصد فون کے کیمرے کو ڈھانپنا ہوتا ہے تاکہ حساس معلومات کی تصاویر جان بوجھ کر یا غلطی سے نہ لی جا سکیں۔

رپورٹ کے مطابق موبائل فونز میں کیمرے، مائیکروفون اور دیگر سینسرز ہوتے ہیں جنہیں خفیہ معلومات کو ریکارڈ کرنے یا لیک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے حساس اور محدود حکومتی علاقوں میں تصاویر بنانا سختی سے ممنوع ہے، خاص طور پر ان حصوں میں جہاں خفیہ معلومات موجود ہوتی ہیں۔

کلَیش رپورٹ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فون پر اس قسم کی اسٹیکر لگانا غالباً ایک سیکیورٹی اقدام ہے، جس کا مقصد جاسوسی یا ریکارڈنگ کو روکنا ہوتا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں حساس معلومات محفوظ کی جاتی ہیں۔

اسرائیل میں قومی سلامتی کے خدشات کے باعث بعض اسمارٹ فونز اور کچھ ایپس، جیسے ٹک ٹاک، کے استعمال پر بھی سخت قواعد لاگو ہیں۔ ملک میں نگرانی اور جاسوسی سے متعلق قوانین کو نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

Read Comments