شائع 29 جنوری 2026 02:10pm

چین نے میانمار میں اربوں ڈالر کا کرمنل نیٹ ورک چلانے والے گینگ کے 11 ارکان کو پھانسی دے دی

چین نے میانمار میں اربوں ڈالر کا کرمنل نیٹ ورک چلانے والے بدنامِ زمانہ گینگ ’منگ فیملی‘ کے 11 ارکان کو سزائے موت دے دی ہے، جب کہ سزاؤں پر عملدرآمد سے قبل ملزمان کو قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔

رپورٹس کے مطابق سزائے موت پانے والے افراد میانمار میں قائم ان سینکڑوں مراکز سے منسلک تھے جو انٹرنیٹ فراڈ، جسم فروشی اور منشیات کی تیاری جیسے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ سی این این کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان گروہوں کے ارکان مقامی حکومت اور میانمار کی حکمران فوج سے منسلک ملیشیاؤں میں بھی نمایاں عہدوں پر فائز تھے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق سزائے موت پانے والے 11 افراد کو گزشتہ برس ستمبر میں قتل، غیر قانونی حراست اور فراڈ سمیت متعدد جرائم میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔ ان میں سے دو ملزمان نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جس کے بعد مقدمہ چین کی اعلیٰ ترین عدالت، سپریم پیپلز کورٹ میں لے جایا گیا تھا جہاں ابتدائی فیصلے کو ہی برقرار رکھا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ گینگ سربراہ منگ شوئے چانگ کی قیادت میں کام کرتا تھا اور طویل عرصے سے کوکانگ کے خودمختار علاقے میں واقع بدنام کمپاؤنڈ کروچنگ ٹائیگر ولا سے منسلک تھا، جو میانمار اور چین کی سرحد پر واقع ہے۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق اس گروہ میں تقریباً 10 ہزار افراد کام کر رہے تھے، جو دھوکہ دہی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔

میانمار کے علاقے کوکانگ کے دارالحکومت لاوکائنگ کو اربوں ڈالر کی فراڈ انڈسٹری کا مرکز سمجھا جاتا تھا، جو میانمار کے ان بےقانون علاقوں میں پروان چڑھا جہاں اسمگل کیے گئے کارکنوں کو جدید آن لائن طریقوں کے ذریعے اجنبی افراد کو دھوکہ دینے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق فراڈ سینٹرز میں پھنسائے گئے کارکنوں کے اہلِ خانہ کی برسوں کی شکایات اور بین الاقوامی میڈیا کی بڑھتی ہوئی توجہ کے بعد، بیجنگ نے 2023 میں ان مراکز کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا گیا تھا۔

اُسی سال نومبر میں چین نے منگ فیملی کے ارکان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جن پر فراڈ، قتل اور انسانی اسمگلنگ کے الزامات تھے، اور ان کی گرفتاری کے لیے 14 ہزار سے 70 ہزار ڈالر تک انعامات مقرر کیے گئے تھے۔

گینگ کے سربراہ منگ شوئے چانگ، جو میانمار کی ایک ریاستی پارلیمنٹ کے رکن بھی رہ چکے تھے، بعد ازاں حراست کے دوران خودکشی کر گئے تھے، جس کی تصدیق اُس وقت چینی سرکاری میڈیا نے کی تھی۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، سزائے موت پانے والوں میں منگ شوئے چانگ کے بیٹے منگ گوؤپنگ بھی شامل تھے، جبکہ ان کی پوتی منگ ژینژین کو بھی پھانسی دی گئی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ منگ فیملی کے اس نیٹ ورک نے ایک اور مجرمانہ گروہ کے سربراہ وو ہونگ مِنگ کے ساتھ مل کر فراڈ سینٹرز میں کام کرنے والے کارکنوں کو جان بوجھ کر قتل، زخمی اور غیر قانونی طور پر قید کرنے کی سازش کی تھی جس کے نتیجے میں 14 چینی شہری ہلاک ہوئے تے۔ وو ہونگ مِنگ کو بھی سزائے موت دے دی گئی ہے۔

Read Comments