بھارت میں پھیلنے والا نیپا وائرس اور اس کی علامتیں کیا ہیں؟
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے دو کیسز سامنے آنے ہیں ، جس کے بعد حکام نے تیزی سے اس خطرناک وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی وفاقی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 افراد کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے جو متاثرہ افراد کے رابطے میں آئے تھے۔ خوش قسمتی سے ان سب میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں اور ان کے ٹیسٹ منفی آئے۔
نیپا وائرس (NiV) ایک انتہائی خطرناک زونوٹک وائرس ہے جو انسان اور جانور دونوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اس کا پہلا کیس 1999 میں ملائیشیا میں رپورٹ ہوا تھا، اور تب سے یہ وائرس بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی ممالک میں بھی دیکھا گیا ہے۔
نیپا وائرس کی کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں اور اسے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہائی رسک پیتھوجن کے طور پر شامل کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ انسانی انفیکشن نایاب ہے اور عام طور پر چمگادڑ سے متاثرہ پھل یا کھجور کے رس کے ذریعے یا دیگر جانوروں سے پھیلتا ہے۔
کسان، جانوروں کے ہینڈلرز یا بیمار سور یا چمگادڑ کے رابطے میں آنے والے افراد زیادہ خطرے میں ہیں۔
وائرس متاثرہ شخص کے تھوک، سانس کے ذرات یا دیگر جسمانی رطوبت کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتا ہے، جس سے صحت کارکنان اور دیکھ بھال کرنے والے افراد حساس ہوتے ہیں۔
نیپا وائرس کی ابتدائی علامات ہلکی یا شدید تک ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے جلد تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔
امریکی سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے مطابق انکوبیشن پیریڈ عام طور پر 4 سے 21 دن ہوتا ہے، لیکن کچھ نایاب کیسز میں یہ زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
نیپا وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار اور شدید سر درد شامل ہیں، جو عام طور پر وائرس کے اثرات کی پہلی نشانی کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ متاثرہ افراد میں سانس لینے میں مشکلات جیسے کھانسی، گلے میں درد یا نمونیا بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
معدے کی علامات میں متلی، قے اور پیٹ میں درد شامل ہیں۔ وائرس کے بڑھنے کے ساتھ مرکزی اعصابی نظام متاثر ہو سکتا ہے، جس سے چکر، الجھن اور بے ہوشی جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔
شدید کیسز میں دماغی سوزش (Encephalitis) کے باعث دورے، کوما یا موت کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ علاوہ ازیں، مریض میں جسمانی کمزوری، جوڑوں اور پٹھوں میں درد اور شدید تھکن بھی عام ہے۔
بعض شدید صورتوں میں مریض 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر کوما میں بھی جا سکتا ہے۔
نیپا وائرس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک رپورٹ کی گئی ہے، جو وائرس کی قسم اور وبا کے حالات پر منحصر ہے۔
بعض بچ جانے والے افراد میں طویل المدت نیورولوجیکل اثرات، جیسے مسلسل دورے یا شخصیتی تبدیلیاں، بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ کچھ کیسز میں انفیکشن مہینوں یا سالوں بعد دوبارہ ظاہر ہو سکتا ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ چمگادڑ وائرس کا قدرتی ذخیرہ ہیں اور ایشیا اور افریقہ کے کئی علاقوں میں ان میں اینٹی باڈیز بھی دیکھی گئی ہیں۔
علاج اور حفاظتی اقدامات
اس وقت نیپا وائرس کی ویکسین موجود نہیں، اس لیے احتیاطی تدابیر سب سے اہم ہیں۔
چمگادڑ سے متاثرہ پھل یا کھجور کے رس کا استعمال نہ کریں۔
بیمار جانوروں کو ہینڈل کرتے وقت حفاظتی دستانے اور لباس پہنیں۔
بیماری کے شکار افراد کے قریب حفاظت کے بغیر رابطہ نہ کریں اور ہاتھ بار بار دھوئیں۔
نیپا وائرس ایک انتہائی خطرناک اور جان لیوا وائرس ہے، جو جانوروں اور انسانوں سے منتقل ہوتا ہے۔ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جلد تشخیص، متاثرہ افراد کی الگ تھلگ نگہداشت اور احتیاطی اقدامات ضروری ہیں۔
جب تک ویکسین اور موثر علاج دستیاب نہیں، عوامی آگاہی اور صحت حکام کی ہدایات پر عمل کرنا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
2011 کی فلم Contagion ایک تیزی سے پھیلنے والی عالمی وبا کی کہانی پر مبنی ہے، نیپا جیسے وائرس سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی۔
فلم نے دکھایا کہ کس طرح جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا وائرس عالمی وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔