قدیم بیویاں شوہر کو بے وفائی سے روکنے کے لیے زہر دیتی تھیں؟
سوشل میڈیا اکثر حیران کن دعووں کے ساتھ مداحوں کو چونکا دیتا ہے۔ حالیہ وائرل پوسٹس میں کہا جا رہا ہے کہ یورپ کے وسطی دور میں خواتین روزانہ اپنے شوہروں کو زہر دیتی تھیں اور رات کو ان کا اثر ختم کرنے کے لیے زہر کا متضاد یعنی اینٹی ڈاٹ دیتی تھیں تاکہ شوہر کہیں اور جا کر اپنا وقت نہ گزاریں۔
وائرل پوسٹ کے زریعے یہ دعویٰ لاکھوں صارفین تک پہنچ چکا ہے اور لوگوں کی رائے حیرت، تعریف اور بعض اوقات غلط فہمی پر مبنی رہی ہے۔
یہ کہانی حقیقت میں نئی نہیں ہے، بلکہ مختلف شکلوں میں سالوں سے گردش کر رہی ہے۔ گوگل سرچ میں اس کے ہزاروں نتائج مل جاتے ہیں، اور یہ سلسلہ پہلے بھی 2022 میں آن لائن موضوع بنا رہا ہے، اور پھر بعد میں 2023 اور 2025 میں اسے مزید افسانوی رنگ دیا گیا۔
مثال کے طور پر قصوں کہانیوں میں ایک جملہ شامل کیا گیا “کچھ روایات کے مطابق“ جس سے حقیقت کا رنگ محسوس ہونے لگا۔
تاریخی حقیقت یہ ہے کہ وسطی دور تقریباً ایک ہزار سال پر محیط تھا، پانچویں صدی سے پندرہویں صدی تک، اور اس دوران ثقافتیں، قوانین اور معاشرتی نظام نہایت مختلف تھے۔ اس حقیقت میں ایسے ایک واضح اور روزمرہ کے معمول کا وجود ممکن نہیں۔
اگر فرض کریں کہ یہ دعویٰ درست تھا بھی تب بھی عملی طور پر اس کا عمل درآمد تقریباً ناممکن تھا۔
زہر تیار کرنا اور دن بھر اس کے اثر کو قابو میں رکھنا بہت پیچیدہ تھا۔ معمول میں کوئی غلطی، بیماری، یا وقت کی کمی شوہر کی موت کا سبب بن سکتی تھی۔
اس کے علاوہ یہ کہ اگر ہر روز ’صبح‘ زہر دیا جاتا اور شوہر ’رات’ کو اینٹی ڈاٹ لیتا، تب بھی مسلسل کے اس عمل سے طبی مسائل سامنے آنے لگتے۔ مزید یہ کہ اگر یہ روایت عام ہوتی، تو کسی خادمہ یا رشتہ دار کے ذریعے راز فوراً افشا ہو جاتا۔
تاریخ میں جو کچھ تحقیق ہوئی تھیں اور مختلف زہروں کے مطالعے سے بھی یہ کہانی غیر حقیقی معلوم ہوتی ہے۔
معروف طبی مصنف پیئٹرو ڈابانو نے 1315 میں زہروں پر کتاب ”لیبر دے وینینس“ لکھی، لیکن اس میں جو بھی معلومات مہیا کی گئیں وہ زیادہ تر خرافات اور غیر سائنسی مشاہدات پر مبنی تھا۔
ایک چینی انسائیکلوپیڈیا (1630-1696) میں شوہروں کو ”طویل اثر والے زہر“ دینے کا ذکر ہے۔ 2001 کی ایک فرانسیسی فلم ”Le Pacte des Loups“ میں یہ جملہ سب سے زیادہ مشہور ہوا، ”فلورینس کی خواتین اپنے شوہروں کو صبح سلو پوائزن دیتی ہیں، اور رات کو زہر کااثر ختم کرنے کے لئے اینٹی ڈاٹ دیتی ہیں۔“ دراصل اس نے وائرل کہانی کی بنیاد رکھی۔
تاریخی میں بعض خواتین نے اپنے شوہروں کو زہر دیا تھا، جیسے 17ویں صدی کی جولیا ٹوفانا نے ایسا کِیا، لیکن یہ زہر زیادہ تر قتل کرکے اپنی آزادی کے حصول کے لیے تھا، شوہر کے رویے کو کنٹرول کرنے کے لیے نہیں۔
یہ تمام حقائق بتاتے ہیں کہ وسطی دور کی یورپ میں ایسا کوئی منظم روزمرہ زہر دینے اور رات کو اس کا اثر ختم کرنے کا طریقہ موجود ہی نہیں تھا۔