شائع 27 جنوری 2026 08:24pm

پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کردہ رقم قومی خزانے میں جمع نہیں ہوتی: پی اے سی اجلاس میں انکشاف

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے وصول کی جانے والی مکمل رقم کمپنیاں قومی خزانے میں جمع نہیں کرواتیں۔

منگل کو قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کی مالی سال 24-2023 کی آڈٹ رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران پیٹرولیم لیوی، لیٹ پیمنٹ سرچارج، سبسڈیز، ریکوریز میں ناکامی اور خلاف قواعد پروکیورمنٹ سے اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔

ڈی جی آئل نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 1400 ارب روپے وصول کیے جاتے ہیں تاہم کمپنیوں سے مکمل ریکوری کے لیے کوئی مؤثر اور ٹھوس طریقہ کار موجود نہیں۔

اس پر نوید قمر نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لیوی ادا کرے اس کا بھی بھلا اور جو نہ دے اس کا بھی بھلا۔ رکن پی اے سی شازیہ مری نے کہا کہ عوام کو نچوڑ کر لیوی وصول کی جاتی ہے جب کہ کمپنیوں کے لیے کوئی واضح نظام ہی موجود نہیں، اگر ایسا ہے تو عوام کو بھی لیوی میں ریلیف ملنا چاہیے۔

کمیٹی نے کمپنیوں سے پیٹرولیم لیوی کی وصولی کے قانون اور طریقہ کار کو سخت بنانے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پیٹرول کی تقسیم کار کمپنیاں سنرجی کو اور حیسکول کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور جرمانوں کی مد میں مجموعی طور پر 14 ارب 63 کروڑ روپے واجب الادا تھے تاہم اب تک صرف 19 کروڑ روپے وصول کیے جا سکے ہیں۔ اس پر چیئرمین پی اے سی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی پرانا کیس ہے اور اب تک ریکوری نہ ہونا سنگین غفلت ہے۔

سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ حیسکول نے رقم ادا کر دی تھی تاہم وہ غلط اکاؤنٹ میں جمع ہو گئی، جس پر آڈیٹر جنرل نے وضاحت کی کہ مذکورہ اکاؤنٹ بند ہو چکا ہے اور اب ریکارڈ میں کسی قسم کی درستگی ممکن نہیں۔ بعدازاں کمیٹی نے حیسکول کے معاملے کو نمٹا دیا۔

سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ سنرجی کو نے حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت 48 اقساط میں چار سال کے دوران 47 ارب روپے ادا کرنے ہیں جب کہ 21 ارب روپے لیٹ پیمنٹ سرچارج بھی واجب الادا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیٹ پیمنٹ سرچارج پر بات چیت جاری ہے اور اقساط کی ادائیگی شروع ہو چکی ہے۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ ڈیل اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کے ذریعے کروائی گئی ہے۔ کمیٹی نے لیٹ پیمنٹ سرچارج سے متعلق دو ہفتوں میں تحریری جواب طلب کر لیا۔

اجلاس کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ تکنیکی ڈیٹا کی فروخت سے حاصل ہونے والے ایک ارب روپے گزشتہ آٹھ سال سے ایک کمرشل بینک کے کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھے گئے حالانکہ وزارت خزانہ کی واضح ہدایات کے باوجود یہ رقم قومی خزانے میں جمع نہیں کروائی گئی۔

چیئرمین پی اے سی نے استفسار کیا کہ آیا یہ رقم سیونگ اکاؤنٹ میں رکھی گئی تھی، جس پر سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ رقم کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھی گئی۔ نوید قمر نے اس اقدام کو مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ دار افراد کی نشاندہی اور فوری طور پر رقم قومی خزانے میں جمع کروانے کی ہدایت جاری کی۔

پی اے سی نے مالی سال 23-2022 میں آر ایل این جی پر برآمد کنندگان کو 28 ارب روپے سبسڈی دینے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ پیٹرولیم ڈویژن نے سبسڈی کے استعمال سے متعلق سہ ماہی رپورٹس حاصل نہیں کیں اور نہ ہی یہ جانچا گیا کہ سبسڈی لینے کے بعد واقعی برآمدات ہوئیں یا نہیں۔ حکام نے تسلیم کیا کہ ای سی سی کو رپورٹس نہیں بھیجی گئیں تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ سبسڈی کی فراہمی کابینہ اور ای سی سی کی ہدایات کے مطابق تھی۔

آڈٹ حکام کے مطابق سبسڈی کے استعمال کا تھرڈ پارٹی آڈٹ بھی نہیں کروایا گیا۔ پی اے سی نے آڈٹ اعتراض نمٹاتے ہوئے آئندہ سبسڈی کے بعد تھرڈ پارٹی آڈٹ لازمی قرار دے دیا۔

اجلاس میں ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے ایک ارب روپے ایل پی ایس کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ ڈی جی آئل نے بتایا کہ ایل پی ایس کی مد میں مجموعی طور پر 222 ارب روپے مختلف کمپنیوں کے ذمہ واجب الادا ہیں۔

چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے جب کہ رکن پی اے سی بلال احمد مندوچیل نے کہا کہ اس مخصوص معاملے پر سپریم کورٹ واضح ہدایات دے چکی ہے۔

کمیٹی نے وزارت قانون و انصاف سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے وزارت پیٹرولیم کو دو ہفتوں میں ریکوری کا مکمل روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

پی اے سی کو آگاہ کیا گیا کہ یو ای پی ایل اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ کے درمیان تنازع کے باعث 76 ارب روپے کے نقصان کا خدشہ ہے۔ پی پی ایل حکام نے بتایا کہ یو ای پی نے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع حاصل کر رکھا ہے جب کہ سندھ اسمبلی کے قانون کے بعد 4 مقدمات نچلی عدالتوں کو منتقل ہو چکے ہیں۔

ڈی جی پی سی نے بتایا کہ یو ای پی نے تنازع کے حل کے لیے کی گئی اسٹڈی ماننے سے انکار کر دیا، جس پر پی اے سی نے ڈی جی پی سی کی کارکردگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور نقصان کے ازالے اور تنازع کے خاتمے کے لیے پیٹرولیم ڈویژن کو دو ہفتے کی مہلت دے دی۔

Read Comments