شائع 27 جنوری 2026 06:07pm

وادی تیراہ میں کوئی بحران نہیں، جب برف باری ہوتی ہے تو نقل مکانی ہوتی ہے: خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ کوئی بحران نہیں، وادی تیراہ میں جب برف باری ہوتی ہے نقل مکانی ہوتی ہے، نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نے واضح کیا ہے کہ خیبر کے سرحدی علاقوں بالخصوص وادی تیراہ میں موسمِ سرما کے دوران نقل مکانی کوئی نیا یا غیر معمولی عمل نہیں بلکہ یہ صدیوں سے جاری ایک معمول ہے، جس کا تذکرہ برطانوی دور کے گزٹیئرز میں بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مائیگریشن کا پاک فوج کے کسی آپریشن سے کوئی تعلق نہیں جب کہ صوبائی حکومت اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج اور وفاق پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ جڑی تمام وادیوں میں شدید برف باری کے باعث ہر سال چند ماہ کے لیے نقل مکانی ہوتی ہے۔ لوگ اپنے گھروں میں ایک دو افراد چھوڑ کر نسبتاً محفوظ علاقوں کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں، جو ایک فطری اور تاریخی عمل ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق اسی تناظر میں 11 دسمبر کو ایک جرگہ منعقد ہوا جس میں 12 سے 13 مشران شریک تھے۔ یہ جرگہ نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ ٹی ٹی پی کے نمائندوں سے بھی ملا۔ صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد مائیگریشن پیکج طے پایا اور اس حوالے سے باقاعدہ دستاویزات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس تمام عمل میں فوج یا وہاں تعینات دفاعی اداروں کا کوئی کردار نہیں۔

وزیر دفاع نے مزید بتایا کہ مذکورہ علاقے میں کئی سال قبل آپریشن ہوا تھا، جس کے بعد فوج نے آئی ڈی پیز کی واپسی کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقے سے آپریشن ختم کر دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ وہاں نہ اسپتال، نہ اسکول اور نہ ہی تھانے ہیں جب کہ جرگے کے ساتھ یہ طے پایا تھا کہ ان بنیادی سہولیات کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ علاقے میں سول لا انفورسمنٹ کی کوئی موجودگی نہیں، شدید سردی کے باعث وہاں مستقل رہائش مشکل ہو جاتی ہے۔

خواجہ آصف نے انکشاف کیا کہ اس علاقے میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ رقبے پر ہیمپ (بھنگ) کی کاشت ہو رہی ہے، جس سے بھاری منافع حاصل ہوتا ہے۔ اس سے تیار ہونے والی ادویات اور آمدن یا تو بااثر سیاسی افراد یا ٹی ٹی پی کی جیب میں جاتی ہے، اور یہی اصل مسئلے کی جڑ ہے۔ وفاقی حکومت اس نظام کو بدلنے کے لیے اسکول، تھانے اور ریاستی رٹ قائم کرنا چاہتی ہے، جس کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت کے بعض عناصر کے مفادات ٹی ٹی پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، اسی لیے وہ اس معاملے کو متنازع بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سویلین حکومت اور جرگہ مل کر مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جب کہ صوبائی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے ایک ایسے آپریشن کو موردِ الزام ٹھہرا رہی ہے جس کا وجود ہی نہیں۔

اس موقع پر وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے برطانوی دور کے آفیشل گزٹیئرز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1880 میں بھی لکھا گیا تھا کہ خیبر کے آفریدی اور اکاخیل قبائل سردیوں میں تیراہ ویلی سے ہجرت کر جاتے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل صدیوں پرانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث اس بار نقل مکانی کچھ تاخیر سے شروع ہوئی۔

اختیار ولی نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 4 ارب روپے کے پیکج میں سے متاثرہ افراد کوکتنا ملا؟ انہوں نے کہا کہ ڈی سی کے مطابق یہ نقل مکانی رضاکارانہ ہے اور پاک فوج یا وفاقی حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان لوگوں کو 8 فروری کے احتجاج میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ تیراہ ویلی مکمل طور پر برف میں ڈھک جاتی ہے، جہاں رہائش ناممکن ہو جاتی ہے، اسی لیے نقل مکانی ناگزیر ہوتی ہے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ علاقے میں انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ جرگے میں شامل مشران علاقے کے معتبر لوگ ہیں اور امن وہاں کے عوام کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہی وہ عناصر ہیں جنہیں 2021-22 میں افغانستان سے لا کر بسایا گیا، جو زیادہ تر بارڈر ایریاز میں موجود ہیں اور مقامی افراد سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ چند سال قبل یہ بھتہ اسلام آباد تک بھی پہنچتا رہا ہوگا۔

فاٹا انضمام کے حوالے سے وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اسے واپس لینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو تین برسوں میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان کی کابل اور قندھار میں الگ الگ پالیسی فرنچائزز ہیں جب کہ پاکستان نے افغان حکومت سے پانچ بار مذاکرات کیے۔

آخر میں خواجہ آصف نے کہا کہ اگر وادی تیراہ میں امن اور سہولیات کا فقدان ہے تو اس کی بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے تاہم وفاقی حکومت ہر ممکن وسائل کے ساتھ صوبائی حکومت کی مدد کے لیے تیار ہے اور نقل مکانی کرنے والوں کی مشکلات دور کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

Read Comments