اپ ڈیٹ 27 جنوری 2026 03:56pm

قیدی نمبر 804 کی پتنگ اور نک دا کوکا: ’لاہور میں اس بار بسنت تھوڑی سختی کے ساتھ‘

پنجاب حکومت نے بسنت پر مذہبی و سیاسی اشتعال انگیزی روکنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔

پچیس برس بعد لاہور میں چھ سے آٹھ فروری تک بسنت منائی جائے گی، تاہم عوامی تحفظ اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے متعدد پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران پتنگوں پر مذہبی کتابوں، مذہبی مقامات، کسی شخصیت یا سیاسی جماعت کے جھنڈے کی تصویر لگانے پر مکمل پابندی ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، صرف بغیر تصویر یا یک رنگی و کثیر رنگی پتنگوں کے استعمال کی اجازت ہوگی۔

پنجاب حکومت کے ان اقدامات کا مقصد ایک عوامی ایونٹ کو سیاست سے پاک رکھنا اور عوام کو تفریح کا موقع فراہم کرنا ہے۔ تاہم، پنجاب حکومت کا مذکورہ ںوٹیفکیشن سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے سماجی رابطے کی سائٹ ’ایکس‘ پر لکھا کہ ”اس وقت پنجاب حکومت کو یہ خوف لاحق ہے کہ کہیں عوام بسنت کے دنوں میں پتنگوں پر 804 اور عمران خان کی تصویر نہ لگا دیں۔“

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز بھی وائرل ہو رہی ہیں، جن میں عمران خان کی تصاویر والی پتنگیں فروخت کرتے دکھایا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے ایک حامی راجہ ثاقب نامی ’ایکس‘ صارف نے سوشل میڈیا پر ایسی ہی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ”کیا اب بسنت پر پابندی لگ سکتی ہے؟“

سیما مہمند نامی ایکس صارف نے بھی مذکورہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں بسنت پر پابندی کا خدشہ ظاہر کیا۔

اس سے قبل، سوشل میڈیا پر پنجاب حکومت سے منسوب ایک اور نوٹیفکیشن بھی وائرل ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سو سے زائد گانوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق، گانوں کی اس فہرست میں ایک گانا ’نک دا کوکا‘ بھی شامل تھا، جس میں ’قیدی نمبر 804‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم، ترجمان حکومت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری نے واضح کیا کہ نوٹیفکیشن میں بسنت کو کوئی ذکر نہیں ہے۔

انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ ’اسٹیج کے اوپر جو گانے پرفارم ہوتے ہیں، یہ نوٹیفکیشن اس کے لیے ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جنہیں گانے کہا جا رہا ہے یہ گانوں اور شاعری دونوں کی توہین ہے۔

بعدازاں انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’بسنت ہوگی ذمہ داری کے ساتھ، بسنت ہوگی احتیاط کے ساتھ، بسنت ہوگی خوبصورت رنگوں کے ساتھ، بسنت ہوگی خوبصورت گانوں کے ساتھ‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بار لاہور میں بسنت تھوڑی سختی کے ساتھ لیکن مکمل ایس او پیز کے تحت منائی جائے گی۔

واضح رہے کہ صوبائی حکومت نے خلاف قانون پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال قابلِ تعزیر جرم قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔

پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سال تک قید، 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کے لیے سات سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔

پنجاب پولیس نے بسنت کے دوران شہریوں کی حفاظت کے لیے جامع سکیورٹی پلان بھی تیار کیا ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ تین روزہ بسنت کے دوران موٹر سائیکل سواروں کے لیے 10 لاکھ حفاظتی تاریں فراہم کی گئی ہیں اور 6 ہزار خصوصی رکشے، 500 بسیں اور 60 ہزار آن لائن کار سروسز شہریوں کی سہولت کے لیے دستیاب ہوں گی۔ اس کے علاوہ تمام پبلک ٹرانسپورٹ، بشمول ایپ بیسڈ ٹیکسی سروسز، بسنت کے تین دن مفت فراہم کی جائے گی۔

حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بسنت کے علاوہ پتنگ بازی کرنے، فائرنگ یا قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پنجاب کائٹ فلائنگ ایکٹ 2025 کے تحت بسنت کی تقریبات کے دوران امن و امان اور عوامی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔

یہ قانون پنجاب اسمبلی نے 24 دسمبر کو منظور کیا تھا اور اس کا مقصد انسانی جان اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

نئے قوانین کے تحت پرانے پروہیبیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2001 کو منسوخ کر دیا گیا ہے تاکہ بسنت ایک محفوظ اور پرامن تہوار کے طور پر منایا جا سکے۔

Read Comments