امریکی پالیسی کے اثرات: عالمی سطح پر سونا اور چاندی مزید مہنگا
عالمی سطح پر سونے اور چاندی کی قیمتوں سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال اور امریکی تجارتی پالیسی نے سرمایہ کاروں کو سونے اور چاندی جیسے محفوظ اثاثوں کی جانب مائل کیا، جبکہ پلاٹینم اور پیلاڈیم کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت منگل کو 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 5 ہزار 60 امریکی ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی، جب کہ پیر کو یہ قیمت 5 ہزار 110 امریکی ڈالر کے تاریخی ریکارڈ پر پہنچ چکی تھی۔
رپورٹ کے مطابق اسپاٹ چاندی چار فیصد اضافے کے ساتھ 108.5 امریکی ڈالر فی اونس پر پہنچ گئی، جب کہ پیر کو یہ 117.69 امریکی ڈالر کے تاریخی ریکارڈ پر تھی۔
دوسری جانب، اسپاٹ پلاٹینم 4 فیصد کمی کے ساتھ 2647.39 ڈالر فی اونس پر آ گیا، حالانکہ پچھلے سیشن میں یہ 2918.80 ڈالر کے ریکارڈ پر پہنچ چکی تھی، جبکہ پیلاڈیم 1.4 فیصد کمی کے ساتھ 1953.69 ڈالر پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
عالمی کوہلے کیپیٹل مارکیٹ (کے سی ایم) کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی رواں برس کی غیر متوقع پالیسیوں نے قیمتی دھاتوں کو دفاعی سرمایہ کاری کے طور پر فائدہ پہنچایا ہے۔ کینیڈا اور جنوبی کوریا پر ممکنہ اضافی ٹیرف کے خدشات سونے کو محفوظ انتخاب بنائے ہوئے ہیں۔
ٹم واٹرر نے مزید کہا کہ امریکہ اور جاپان کے حکام کی جانب سے جاپانی کرنسی ین کی قیمت کو مستحکم کرنے کے اقدامات نے ڈالر کو متاثر کیا اور سونے کی قیمت کے لیے فائدہ مند رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت کے ممکنہ شٹ ڈاؤن اور ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسیوں نے بھی ڈالر پر دباؤ ڈالا، جس سے غیر ملکی صارفین کے لیے ڈالر میں قیمت والا سونا سستا ہوا۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا تھا کہ وہ جنوبی کوریا کی آٹو، لکڑی اور دواسازی کی درآمدات پر 25 فیصد تک ٹیرف بڑھائیں گے، اور انہوں نے جنوبی کوریا پر واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہ کرنے پر تنقید بھی کی تھی۔
اس سے قبل انہوں نے کینیڈا پر بھی ٹیرف لگانے کی دھمکی دی تھی، جس کی وجہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کوششیں اور حالیہ ماہ میں کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کا چین کا دورہ تھا۔