اپ ڈیٹ 27 جنوری 2026 10:35am

برفباری اور بارش نے شدت اختیار کرلی، کئی علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع

ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری کا نیا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے جس کے باعث آزاد کشمیر، بلوچستان، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور بالائی علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

مظفرآباد اور اس کے گردونواح میں شدید برفباری کے باعث مین شاہراہوں کے ساتھ ساتھ دیہی رابطہ سڑکیں بھی دوبارہ بند ہو گئی ہیں، جس سے حویلی، باغ، راولاکوٹ، جہلم ویلی، پونچھ اور ضلع نیلم کا زمینی رابطہ مظفرآباد سے منقطع ہو چکا ہے۔

حکام کے مطابق لمنیاں، ریشیاں، لیپہ روڈ، چکار سدھن گلی روڈ، محمود گلی اور لسڈنہ روڈ شدید برفباری کے باعث بند ہیں، جبکہ وادی لیپہ کا ہٹیاں بالا اور مظفرآباد سے زمینی رابطہ بھی کٹ گیا ہے۔

ضلع باغ اور پونچھ کا ضلع حویلی سے رابطہ بھی معطل ہو چکا ہے۔ اسی طرح راولاکوٹ، تراڑکھل اور بنجوسہ کو ملانے والی سڑک بھی شدید برفباری کے باعث بند ہو گئی ہے۔

موسمی شدت کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو لینڈ سلائیڈنگ اور برفباری سے متاثرہ علاقوں میں غیر ضروری سفر سے روک دیا ہے۔

این ڈی ایم اے اور ریسکیو اداروں کے افسران اور اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم آزاد کشمیر میں پانچ روز گزرنے کے باوجود کئی رابطہ سڑکیں تاحال بحال نہیں ہو سکیں۔

مری میں برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہونے پر سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد کے باعث ضلعی انتظامیہ نے احتیاطی طور پر سیاحوں کا داخلہ محدود کر دیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں کے دوران مری میں مزید برفباری کا امکان ہے اور پی ڈی ایم اے نے شمالی علاقوں کا سفر کرنے والوں کو احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

گلگت بلتستان میں بھی پہاڑوں پر برفباری جبکہ غذر کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور میدانی علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

وادی تیراہ میں بارش کے باعث متاثر ہونے والے دو ہزار چار سو افراد کو ریسکیو کر لیا گیا ہے اور مرکزی شاہراہ کو بحال کر کے عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

ادھر راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں بھی سخت سردی برقرار ہے۔

بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ، زیارت، شیلاباغ اور دیگر اضلاع میں بھی شدید برفباری جاری ہے جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے کراچی پہنچنے والی ٹھنڈی ہواؤں کا سلسلہ آئندہ دو سے چار دن میں کمزور پڑ جائے گا، تاہم مجموعی طور پر سردی کی شدت میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

حکام نے شہریوں اور سیاحوں کو محتاط رہنے اور موسم بہتر ہونے تک غیر ضروری سفر سے اجتناب کرنے کی ہدایت کی ہے۔

Read Comments