پنجاب بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھرمیں پالتو شیر رکھنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے قانون سے وائلڈ کیٹس رکھنے کی شق ختم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
پنجاب بھر میں پالتو شیر رکھنے کی قانونی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، مریم نواز نے 8 سالہ بچے واجد کا بازو ضائع ہونے کے واقعے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ بڑا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر ننھے واجد کو گنگا رام اسپتال منتقل کر دیا گیا جب کہ مریم نواز نے ننھے واجد کو جدید بائیونک آرم لگانے کی بھی ہدایت کردی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کو دانستہ چھپانے، جھوٹ بول کر حقائق چھپانے اور مقامی اسپتال میں واجد کا بازو کاٹنے پر سخت قانونی کارروائی کی بھی ہدایت کی ہے۔
مریم نواز نے ننھے واجد اور اس کے والدین سے اظہار ہمدردی اور بچے کی مکمل طبی دیکھ بھال کی بھی ہدایت کی۔ ڈھولا بریڈنگ فارم پر ہونے والے واقعے کو چھپانے کی کوشش کی گئی، افسوناک واقعے کی اطلاع فارم ہاؤس کے مالک نے پولیس یا وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو نہیں دی۔
پولیس اور محکمہ جنگلی حیات نے ملزمان کو گرفتار کر لیا اور ایف آئی آر درج کر لی گئی جب کہ پرائیویٹ اسپتال میں بچے کے بازو پر زخم کی وجہ بھی غلط بتائی گئی۔
فارم ہاؤس کے مالک نے بچے کے والدین کو بھی جھوٹی کہانی سنانے پر مجبور کیا، پنجاب وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت شرائط و ضوابط کے ساتھ پالتو ’وائلڈ کیٹس‘ رکھنے کے لائسنس جاری ہوتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے قانون سے وائلڈ کیٹس رکھنے کی شق ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔