اپ ڈیٹ 26 جنوری 2026 09:52am

امریکا میں نجی طیارہ ٹیک آف کے دوران حادثے کا شکار، 8 افراد سوار تھے

امریکا کی ریاست مَین کے شہر بینگور میں ایک نجی طیارہ اتوار کی شام ٹیک آف کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق طیارے میں مجموعی طور پر آٹھ افراد سوار تھے، جن میں عملے کے ارکان اور مسافر شامل تھے۔ حادثے میں سوار افراد کی نوعیت اور شدتِ زخمی ہونے سے متعلق تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

ذرائع کے مطابق یہ طیارہ بمبارڈیئر چیلنجر 650 بزنس جیٹ تھا، جو ٹیک آف کے فوراً بعد حادثے کا شکار ہوا۔

بینگور انٹرنیشنل ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا کہ شام تقریباً سات بج کر پینتالیس منٹ پر ایمرجنسی ٹیموں کو واقعے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔ حادثے کے بعد ایئرپورٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے تصدیق کی ہے کہ حادثے کی تحقیقات ایف اے اے اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ مشترکہ طور پر کریں گے تاکہ حادثے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

امریکی وفاقی ریکارڈ کے مطابق طیارہ ہیوسٹن میں رجسٹرڈ ایک لمیٹڈ لائیبلٹی کارپوریشن کے نام پر تھا۔

یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا کے شمال مشرقی علاقوں میں شدید برفانی طوفان جاری ہے۔

مَین میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کافی نیچے ہے جبکہ ہلکی برفباری کے باعث حدِ نگاہ بھی بہت کم ہو چکی ہے۔

بینگور ایئرپورٹ پر حادثے سے کچھ دیر قبل کنٹرولرز اور پائلٹس کے درمیان کم حدِ نگاہ اور طیارے کو برف سے پاک کرنے سے متعلق گفتگو بھی سنی گئی، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ گفتگو کن افراد کے درمیان ہو رہی تھی۔

دستیاب آڈیو کے مطابق ایک کنٹرولر نے طیارے کو رن وے 33 سے ٹیک آف کی اجازت دی۔ تقریباً دو منٹ بعد ایک کنٹرولر نے بلند آواز میں ریڈیو پر کہا کہ ایئر فیلڈ پر تمام ٹریفک روک دی گئی ہے۔

کچھ ہی لمحوں بعد ایک اور کنٹرولر کی آواز سنی گئی جس میں بتایا گیا کہ مسافر طیارہ الٹا پڑا ہوا ہے۔

حادثے کے فوراً بعد ایئرپورٹ کو بند کر دیا گیا اور ایمرجنسی گاڑیوں کو رن وے پر جانے کی اجازت دی گئی۔

بعد ازاں ایک کنٹرولر نے بتایا کہ طیارے میں تین عملے کے ارکان اور ممکنہ طور پر پانچ مسافر سوار تھے۔

حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ اور جانی نقصان سے متعلق واضح معلومات سامنے آ سکیں گی۔

Read Comments