واشنگٹن میں پاکستان کی سفارتی کامیابی، بین الاقوامی جریدے کی تعریف
پاکستان نے اپنی دانشمندانہ اور اسٹریٹجک سفارتکاری کے ذریعے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی سمت دی ہے، جسے عالمی جریدے ’دی ڈپلومیٹ‘ نے بین الاقوامی سطح پر سراہا ہے۔
جریدے کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے میں اپنی اہمیت اور اثر و رسوخ کو بڑھایا بلکہ بھارت کو بھی سفارتی تنہائی اور بھاری ٹیرف کے دباؤ میں مبتلا کر دیا۔
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کو امریکا کا روایتی اتحادی سمجھا جاتا تھا، مگر اس نے امریکی ثالثی کے دعوے کو اپنی خودمختاری کی توہین قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت نہ تو QUAD Summit میں شمولیت حاصل کر سکا، نہ صدر ٹرمپ کا دورہ اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا۔ اسی بحران کو پاکستان نے بروقت اور دانشمندانہ حکمت عملی میں تبدیل کیا، جسے صدر ٹرمپ نے بھی بھرپور انداز میں سراہا۔
ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا، جہاں سیکیورٹی، تجارت، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کے امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کے درمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ بھی طے پایا، جس کے تحت امریکی کمپنیاں پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری کریں گی۔
جریدے کے مطابق اسی دوران امریکا نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے منظوری دی، جس کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی۔ صدر ٹرمپ نے امریکا اور پاکستان کے اشتراک سے بڑے تیل ذخائر کی ترقی کا بھی اعلان کیا، جبکہ انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوا اور تعلقات کے پرانے ستون کو نئی زندگی ملی۔
ماہرین کے مطابق پاکستان نے اپنے تعلقات کی مضبوطی، علاقائی چیلنجز کو فائدے میں بدلنا اور عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانا ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت اور حکمت عملی نے خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی قوت کو بلند کیا اور عالمی سطح پر پاکستان کو قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر پیش کیا۔
دی ڈپلومیٹ اور دیگر ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے ثالثی کو جھٹلانے اور امریکی ناراضی کے سبب اسے نہ صرف تجارتی نقصان اٹھانا پڑا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ بھی متاثر ہوئی، جبکہ پاکستان نے اس بحران کو اپنے فائدے میں بدل کر سفارتی میدان میں اہم کامیابی حاصل کی۔