امریکی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے مارا گیا شہری ایلکس کون تھا؟
امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منی ایپولس میں ہفتے کو وفاقی امیگریشن ایجنسی آئس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 37 سالہ الیکس پریٹی سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آئی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق الیکس جیفری پریٹی ایک آئی سی یو نرس تھا جو بیمار امریکی سابق فوجیوں کا علاج کرتا تھا۔ ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کے مطابق یہ پیشہ ان کی دوسروں کی مدد کرنے کی گہری خواہش کا عکاس تھا۔
الیکس کے ایک ساتھی نے بتایا کہ وہ تقریباً پانچ برس تک مینیاپولس وی اے میڈیکل سینٹر میں انٹینسیو کیئر یونٹ (آئی سی یو) نرس کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔
سی این این کے مطابق ایلکس پریٹی نے 2006 میں گرین بے، وسکونسن سے ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ ان کے ایک ساتھی کے مطابق، انہوں نے وی اے اسپتال میں کام کر کے خود نرسنگ اسکول کی تعلیم حاصل کی اور گریجویشن کے بعد اسی اسپتال کے عملے میں شامل ہو گئے۔
الیکس کے والدین مائیکل اور سوسن پریٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اُن کا بیٹا ایک نہایت رحم دل انسان تھا جو اپنے خاندان اور دوستوں سے گہری محبت کرتا تھا اور بطور آئی سی یو نرس مینیاپولس وی اے اسپتال میں ان امریکی سابق فوجیوں کا بھی بے حد خیال رکھتا تھا جن کی وہ دیکھ بھال کرتا تھا۔
الیکس کے ولدین کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا اس دنیا میں مثبت فرق پیدا کرنا چاہتا تھا۔ بدقسمتی سے اب وہ ہمارے ساتھ موجود نہیں۔
مینیاپولس وی اے میں شعبۂ متعدی امراض کے سربراہ ڈاکٹر دیمتری ڈریکونیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بلیوسکائی پر لکھا کہ الیکس جیفری ایک اچھا، مہربان انسان تھا جو دوسروں کی مدد کے لیے جیتا تھا۔
ڈاکٹر ڈریکونیا کے مطابق الیکس اسپتال میں شدید بیمار سابق فوجیوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ وفاقی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایلکس کے ایک ساتھی نے بتایا کہ وہ سابق فوجیوں کو بڑی آنت کے کینسر سے بچانے کے طریقوں پر بھی تحقیق کرتے تھے۔
الیکس پریٹی اس وقت جان لیوا گولی لگنے سے ہلاک ہوئے جب مینیاپولس میں امیگریشن ایجنٹس نے انہیں زمین پر گرا کر قابو کرنے کی کوشش کی۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق افسران نے جائے وقوعہ سے الیکس کے قبضے سے ایک ہینڈ گن برآمد کی اور اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔
سی این این کے مطابق ویڈیو کے تجزیے سے ظاہر ہوا کہ فائرنگ سے کچھ لمحے قبل ایک وفاقی ایجنٹ نے اسلحہ ہٹایا تھا۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ آئس کے اہلکاروں نے مشتبہ شخص کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کی، مگر اس نے مزاحمت کی کوشش کی تھی۔
مینیاپولس پولیس کے مطابق، پریٹی ایک قانونی اسلحہ رکھنے والے شہری تھے اور ان کے پاس اجازت نامہ بھی موجود تھا۔
عدالتی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں ان پر کوئی فوجداری الزام نہیں تھا، صرف ٹریفک اور پارکنگ سے متعلق معمولی خلاف ورزیاں درج تھیں۔
تاہم، ان کے والدین نے اپنے بیان میں محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اس دعوے کی سختی سے تردید کی کہ ان کا بیٹا ایجنٹس کے لیے خطرہ تھا۔ ان کے مطابق ایلکس اس وقت ایجنٹس کے قریب موجود ایک خاتون کی حفاظت کی کوشش کر رہے تھا۔
والدین کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے ہمارے بیٹے کے بارے میں کہے گئے مکروہ جھوٹ ناقابلِ معافی اور انتہائی شرمناک ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، “وہ ایک اچھا انسان تھا۔
اہلِ خانہ نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایلکس جیفری نے رواں ماہ کے اوائل میں وفاقی امیگریشن ایجنٹ کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والی 37 سالہ رینی نکول گُڈ کے حق میں مینیاپولس میں امیگریشن نفاذ کے خلاف مظاہروں میں شرکت شروع کی تھی۔
الیکس کے والد مائیکل پریٹی نے بتایا کہ وہ لوگوں کی بہت پرواہ کرتا تھا اور مینیاپولس اور پورے امریکہ میں آئی سی ای کے ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا، اس پر بہت پریشان تھا، بالکل اسی طرح جیسے لاکھوں دیگر لوگ پریشان ہیں۔