سرچ آپریشن کا نواں روز، وفاقی ٹیکنیکل ٹیم گل پلازہ پہنچ گئی
کراچی کے شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک سانحے کے نویں روز بھی ریسکیو اور سرچ آپریشن جاری ہے۔ وفاق سے تحقیقات کے لیے ایک ٹیکنیکل ٹیم اتوار کو جائے وقوع پر پہنچی، جس میں این ای ڈی یونیورسٹی کے ماہرین بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق اسپیشل انویسٹیگیشن گروپس نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی اور متاثرہ عمارت کے مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔
تحقیقاتی ٹیم نے پلازہ کے کئی مقامات کا جائزہ لیا، جبکہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے ٹیم کو عمارت کے مختلف حصوں کا تفصیلی معائنہ کرایا۔
اربن سرچنگ آپریشن ٹیم نے عمارت کے مختلف مقامات پر نشانیاں مارک کیں تاکہ جہاں سرچنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے وہاں دوبارہ خطرہ نہ ہو۔ ٹیم نے ’ایچ‘ کے نشان لگائے، جس کا مطلب خطرے یا عمارت کے گرنے کے امکان کی نشاندہی ہے۔
ذرائع کے مطابق گل پلازہ سے گزشتہ رات انسانی باقیات بھی ملیں۔ شناخت کے لیے انچارج سی پی ایل سی کی ٹیم کام کر رہی ہے تاکہ فوری طور پر شناختی عمل مکمل کیا جا سکے۔ ح
کام نے بتایا کہ سرچنگ کے دوران عمارت کے ڈھانچے کی نازک صورتحال کے باعث تمام کارروائیاں احتیاط کے ساتھ کی جا رہی ہیں اور شہریوں اور ریسکیو اہلکاروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
اب تک سرچنگ کے دوران عمارت کے کئی حصوں کی جانچ مکمل ہو چکی ہے، تاہم مزید انسانی باقیات کی تلاش جاری ہے اور ریسکیو ٹیم ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ مزید لاپتہ افراد کو تلاش کیا جا سکے۔
دوسری جانب گل پلازہ حادثے میں جاں بحق دہلی کالونی کے رہائشی ایک ہی خاندان کے چار افراد کی شناخت کرلی گئی ہے۔
متاثرہ خاندان کے چھ افراد گمشدہ افراد کی فہرست میں شامل تھے، جو خریداری کے لیے گل پلازہ گئے تھے۔ ان میں 32 سالہ محمد سعد ولد عرفان، 35 سالہ مصباح پروین، 14 سالہ مریم، 30 سالہ نمرہ اور 30 سالہ عرفان شامل تھے۔
ڈی این اے نمونوں کے میچ ہونے کے بعد اس خاندان کے چار افراد کی میتوں کی شناخت مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ کوثر پروین اور اشرف علی کی شناخت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہو سکا۔
حکام کے مطابق شناخت کی گئی میتوں کو آج دوپہر ساڑھے بارہ بجے ورثا کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ ان کی نماز جنازہ دوپہر تین بجے دہلی کالونی عیدگاہ گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی۔
اس پیش رفت کے بعد گل پلازہ سانحے میں شناخت ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 28 ہو گئی ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سے اب تک 73 افراد کی لاشیں اور باقیات نکالی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 82 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ڈی این اے کے ذریعے شناخت کے عمل میں اب تک پچپن متاثرہ خاندانوں نے نمونے فراہم کیے ہیں۔
مذکورہ 82 لاپتہ افراد کی تازہ فہرست بھی آویزاں کر دی گئی ہے جس میں 11 سے 70 برس تک کی عمر کے افراد کے نام، تصاویر اور شناختی کارڈ کی نقول شامل ہیں۔
ادھر پولیس نے سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا مقدمہ تھانہ نبی بخش میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کر لیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق آگ غفلت اور لاپرواہی کے باعث لگی، جبکہ عمارت میں مناسب حفاظتی انتظامات موجود نہیں تھے۔
مقدمے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ واقعے کے وقت عمارت کی لائٹس اور دروازے بند تھے، جس کے باعث آگ بھڑکنے کے بعد بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا۔ حکام کے مطابق تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کے نام مقدمے میں شامل کیے جائیں گے۔
تحقیقاتی ٹیم نے ہفتے کے روز جائے وقوع کا دورہ کیا اور دو چوکیداروں سمیت عینی شاہدین کے بیانات قلم بند کیے۔
ٹیم نے متاثرہ عمارت کے مختلف حصوں کا بھی جائزہ لیا۔ ریسکیو اہلکاروں کے مطابق عمارت کی تقریباً 80 سے 90 فیصد سرچنگ مکمل کی جا چکی ہے اور ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے اور مزید تلاش کا عمل جاری ہے۔