شائع 24 جنوری 2026 03:36pm

انسان ایک دن بڑھاپے کو شکست دے سکے گا، ایلون مسک کا بڑا دعوٰی

جدید ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک کا کہنا ہے کہ بڑھاپا کوئی قدرتی راز نہیں جو کبھی نہ سمجھا جا سکے، بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے سائنس مستقبل میں حل کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، وقت آئے گا جب انسان بڑھاپے کے عمل کو سست، روک یا شاید واپس بھی موڑ سکے گا۔

ڈاووس میں ورلڈ اکنامک فورم 2026 سے گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ عمر بڑھنے کا عمل کوئی پراسرار چیز نہیں۔ ان کے مطابق، جیسے ہی سائنس دان اس کی بڑھاپے کی اصل وجہ تک پہنچ جائیں گے، یہ مسئلہ توقع سے کہیں زیادہ واضح اور قابلِ فہم نظر آئے گا۔

ایلون مسک نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ انسان کا جسم ایک خاص نظام کے تحت بوڑھا ہوتا ہے۔ بقول ان کے ، ’میں نے کبھی کسی کو ایک بازو سے بوڑھا اور دوسرے سے جوان نہیں دیکھا۔‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم میں کہیں نہ کہیں ایک اندرونی گھڑی موجود ہے جو کھربوں خلیوں کو ایک ساتھ عمر رسیدہ ہونے کا اشارہ دیتی ہے۔

مسک نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہی سائنس دان اس نظام کو سمجھ لیں گے، بڑھاپے کا حل سامنے آ سکتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا ہمیں لگتا ہے، بس اصل وجہ تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے ایلون مسک ’ڈیجیٹل لافانیّت‘ کا تصور پیش کر چکے ہیں۔ اس تصور کے تحت لوگ اپنی زندگی کی کہانیاں، یادیں اور تجربات کمپیوٹر میں محفوظ کر سکیں گے، تاکہ جسم ختم ہونے کے بعد بھی انسان کی سوچ اور داستان زندہ رہے۔ مسک کا خیال ہے کہ یہ معلومات مستقبل میں خلاء میں بھی بھیجی جا سکتی ہیں۔

تاہم ایلون مسک نے خبردار بھی کیا کہ اگر انسان بہت زیادہ عرصہ زندہ رہنے لگے تو اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق، لمبی عمری کی وجہ سے معاشرے جمود کا شکار ہوسکتے ہیں، نئے خیالات آگے آنے میں مشکل ہو سکتی ہے اورخیالات اور طاقت چند ہاتھوں میں رہ ہو جائے گی۔ اسی لیے ان کا کہنا ہے کہ، ’کسی حد تک موت کا ہونا بھی فائدہ مند ہے، ورنہ دنیا بے جان سی ہو سکتی ہے۔‘

اگرچہ اس نشست میں بڑھاپے کے حل سے متعلق کوئی واضح منصوبہ یا ٹائم لائن پیش نہیں کی گئی۔

Read Comments