سندھ حکومت نے گل پلازہ متاثرین کی بحالی کا ابتدائی پلان تیار کرلیا
سندھ حکومت نے گل پلازہ متاثرین کی بحالی کا ابتدائی پلان تیار کرلیا ہے، جس کے تحت متاثرہ دکانداروں کو عارضی طور پر کاروبار کے لیے جگہ فراہم کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے سمیت ازسرنو تعمیر کے مختلف آپشنز پر کام کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے ہر دکان دار کو 5،5 لاکھ روپے دینے اور دکانوں کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا ہے۔
جمعے کو سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں، اس افسوسناک واقعے میں غفلت اور کوتاہیاں ہوئی ہیں اور سانحے کا ذمے دار کوئی بھی ہو، وہ سزا سے نہیں بچ سکے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے سانحہ گل پلازہ سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سانحے میں 82 افراد کی مسنگ رپورٹ درج ہوئی تھی، جن میں سے اب تک 61 لاشیں ریکور کی جاچکی ہیں جب کہ 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق 52 افراد کا ڈی این اے پراسس جاری ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر آگ لگی جب کہ 10 بج کر 26 منٹ پر آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی، ساڑھے 10 بجے کمشنر کراچی موقع پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی بڑا سانحہ ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سانحے کے دوران اور بعد میں اپوزیشن کی جانب سے شور شرابہ کیا گیا اور اس واقعے پر سیاست کی گئی، جو مناسب نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ سانحے کے بعد کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے اور 18ویں ترمیم پر بات کی گئی تاہم یہ واضح نہیں کہ اس سانحے کو 18ویں ترمیم سے کیوں جوڑا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 18ویں ترمیم سے پہلے کے نظام کی خرابیاں آج بھی سامنے آرہی ہیں، جنہیں صاف کیا جا رہا ہے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی لیز 1991 میں اس وقت کے میئر نے منظور کی تھی، اس وقت عمارت میں بیسمنٹ، گراؤنڈ اور دو فلور تھے۔ 1998 میں کے بی سی کو دوبارہ درخواست دی گئی اور 2003 میں اس وقت کے میئر نے دکانوں میں اضافے کی منظوری دی جب کہ 2001 میں عمارتوں کو ریگولرائز کرنے کا آرڈیننس آیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 1884 میں یہ عمارت 99 سالہ لیز پر دی گئی تھی، جو 1983 میں مکمل ہوگئی تاہم لیز کی تجدید نہیں ہوئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ گل پلازہ کو گرانا پڑے گا اور جتنی دکانیں پہلے تھیں، اتنی ہی دوبارہ تعمیر کی جائیں گی جب کہ تاجروں کو دوبارہ آباد کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ گل پلازہ کے تمام متاثرہ دکانداروں کو فوری طور پر 5،5 لاکھ روپے دیے جائیں گے جب کہ متاثرہ تاجر ایک کروڑ روپے تک قرض بھی لے سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، حکومت پر تنقید کی جائے اور غلطیوں کی نشاندہی بھی کی جائے، سانحے میں غفلت اور کوتاہیاں ہوئیں ہیں ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے تاہم اس سانحے پر سیاست شروع کردی گئی، سانحے کو سیاست کے لیے استعمال کرنا جرم کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ اگر حکومتی اداروں یا ان کی اپنی غفلت ثابت ہوئی تو سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی لاشوں پر کوئی خفیہ یا سیاسی ایجنڈا شروع نہ کیا جائے اور ایک سانحے کے وقت کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی بات نہیں ہونی چاہیے۔
دوسری جانب سندھ حکومت نے گل پلازہ کے متاثرہ دکانداروں کی بحالی کے لیے جامع اقدامات کا آغاز کردیا ہے۔ منصوبے کے تحت گل پلازہ کے دکانداروں کو عارضی بنیادوں پر کاروبار جاری رکھنے کے لیے متبادل جگہ فراہم کی جائے گی تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ دکانوں میں موجود اسٹاک کی مالیت کا باقاعدہ تخمینہ لگایا جائے گا، جس کے بعد نقصانات کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کے حوالے سے مختلف آپشنز پر بھی کام جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ حکومت نے متاثرین کے عارضی کاروبار کے لیے تین مقامات کو حتمی شکل دے دی ہے، جہاں گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر مکمل ہونے تک دکانداروں کو کاروبار کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
یاد رہے کہ سندھ حکومت اس سے قبل گل پلازہ سانحے میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان بھی کرچکی ہے۔
واضح رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی تاہم اب تک صرف 17 افراد کی لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے جب کہ 77 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔