روس، یوکرین اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات آج امارات میں ہوں گے
یوکرین امن مذاکرات کے لیے امریکا، روس اور یوکرین کی مذاکراتی ٹیمیں پہلی بار آج متحدہ عرب امارات میں مذاکرات کریں گی۔
روسی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ماسکو نے واضح کیا ہے کہ علاقائی تنازعات حل کیے بغیر دیرپا امن ممکن نہیں۔
یوری اوشاکوف نے بتایا کہ ابوظہبی میں ہونے والے سہ فریقی سیکیورٹی مذاکرات میں روسی وفد کی قیادت ایڈمرل ایگور کوستی یوکوف کریں گے، جبکہ روس کے سرمایہ کاری سے متعلق نمائندے کریل دیمتریوف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندے اسٹیو وٹکوف سے اقتصادی امور پر علیحدہ ملاقات کریں گے۔
کریملن کے مطابق پیوٹن نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ الاسکا میں ہونے والے گزشتہ ٹرمپ، پیوٹن سربراہی اجلاس میں طے پانے والے فارمولے کے مطابق علاقائی مسئلہ حل کیے بغیر طویل المدتی امن ممکن نہیں۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ ماسکو سفارتی حل میں سنجیدگی سے دلچسپی رکھتا ہے، تاہم جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، روس اپنی فوجی کارروائی کے اہداف کا تعاقب جاری رکھے گا۔
اُدھر یوکرین اس جنگ کی اب تک کی سخت ترین سردیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ روس کی جانب سے توانائی کے انفراسٹرکچر پر میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث کیف اور دیگر شہروں میں لاکھوں افراد طویل بجلی کی بندش اور شدید سردی میں حرارت سے محروم ہو چکے ہیں۔ یوکرین ان حملوں کو اس بات کا ثبوت قرار دیتا ہے کہ روس امن میں سنجیدہ نہیں، جس کی ماسکو تردید کرتا ہے۔
امریکی وفد میں اسٹیو وٹکوف کے ساتھ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور جوش گروئن بام بھی شامل تھے، جو عالمی تنازعات کے حل سے متعلق ٹرمپ کے قائم کردہ بورڈ کے سینئر مشیر ہیں۔ یہ مذاکرات یورپ کی دوسری عالمی جنگ کے بعد بدترین تنازع کے خاتمے کے لیے امریکی کوششوں کا حصہ ہیں، جو اب اپنے چوتھے سال کے اختتام کے قریب ہے۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا تھا کہ اگر پیوٹن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کسی معاہدے تک نہ پہنچے تو یہ دونوں کی بڑی حماقت ہو گی۔
وٹکوف نے بھی مذاکرات سے قبل امید ظاہر کی کہ کئی مہینوں کی بات چیت اب ایک ہی اہم مسئلے تک محدود ہو چکی ہے، جسے روسی حکام نے علاقائی تنازع قرار دیا ہے۔
اہم رکاوٹوں میں روس کا یہ مطالبہ شامل ہے کہ یوکرین مشرقی دونیسک کے وہ علاقے چھوڑ دے جو اس کے کنٹرول میں ہیں، جبکہ زیلنسکی نے بھاری جانی نقصان کے بعد حاصل کیے گئے علاقوں سے دستبرداری کو مسترد کر دیا ہے۔ روس یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کی بھی مخالفت کرتا ہے اور کسی بھی امن معاہدے کے بعد یوکرینی سرزمین پر نیٹو افواج کی تعیناتی کو قبول نہیں کرتا۔
زیلنسکی نے سوئٹزرلینڈ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں کی شرائط طے پا چکی ہیں، تاہم علاقائی مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔