بابراعظم، انضمام الحق سمیت کئی قومی کرکٹرز سے مبینہ مالی فراڈ کا انکشاف
پاکستان کرکٹ ٹیم کے موجوہ اور سابق کھلاڑیوں کے ساتھ دو ارب سے زائد کے مالی فراڈ کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک بزنس مین نے مختلف قومی کھلاڑیوں سے کروڑوں روپے بطور سرمایہ کاری حاصل کیے۔ بزنس مین نے ابتدائی طور پر کئی مہینوں تک کھلاڑیوں کو بھاری منافع ادا کیا، تاہم کاروبار میں نقصان کے بعد متعلقہ کاروباری شخصیت نے کرکٹرز سے رابطہ منقطع کر دیا اور نہ ہی اصل رقم واپس کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرکٹرز نے ماہانہ 8 سے 9 فیصد منافع کے وعدے پر کروڑوں روپے سرمایہ کاری کی تھی۔ ابتدا میں منافع کی ادائیگی باقاعدگی سے کی جاتی رہی، جس کے باعث مزید سرمایہ کاری بھی کی گئی، تاہم بعد ازاں منافع کی ادائیگی روک دی گئی اور اصل رقم بھی واپس نہیں کی گئی۔
فراڈ کے شکار ہونے والے کرکٹرز میں سابق کپتان انضمام الحق، بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، محمد رضوان اور سلمان علی آغا شامل ہیں، جبکہ دیگر سابق اور موجودہ قومی کھلاڑیوں کے بھی متاثر ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق تاحال کسی بھی کرکٹر نے مقدمہ درج کرانے کے لیے باضابطہ درخواست نہیں دی، تاہم اگر معاملہ حل نہ ہوا تو متاثرہ کھلاڑی بزنس مین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کریں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ معاملے پر کھلاڑیوں کے قانونی مشیروں سے مشاورت جاری ہے اور آئندہ چند روز میں اس حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔