اپ ڈیٹ 23 جنوری 2026 01:31pm

امریکی فورس ایران کی جانب روانہ، جنگی بحری جہاز اور جدید طیارے شامل

امریکا نے ایران کی جانب بڑی فوجی قوت روانہ کر دی، جس میں جنگی بحری جہاز اور جدید طیارے شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ امریکی فورسز فوری طور پر حملہ کریں، تاہم اگر ایران نے نیوکلیئر ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو امریکا دوبارہ کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔

امریکی صدر نے یہ بات ڈیوس سے واپسی کے دوران اپنے طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو میں کی۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران کی جانب سے کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری بڑی فورس ایران کی جانب رواں دواں ہیں، بہت سے جہاز ایران کی طرف جا رہے ہیں اور ہم ایران کے قریب احتیاطی طور پر فورس تعینات کررہے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور امریکا بھی مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم مذاکرات کا انحصار ایران کے رویے اور اقدامات پر ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا پھر دعویٰ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کے انتباہ کے بعد ایران نے 827 پھانسیوں پر عمل درآمد روک دیا تھا، جن میں اکثریت نوجوانوں کی شامل تھی۔

امریکی صدر نے اپنی آئندہ سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے جبکہ سال کے اختتام پر چینی صدر کے امریکا آنے کا بھی امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر استحکام کے لیے بڑے ممالک کے درمیان روابط ناگزیر ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس تنازع کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے اور سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا کہ گرین لینڈ کی سیکیورٹی کے معاملے پر نیٹو کے ساتھ مل کر جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

Read Comments