شائع 22 جنوری 2026 11:46pm

صدر ٹرمپ کا امریکا کے سب سے بڑے بینک کے خلاف 5 ارب ڈالر کا مقدمہ


صدر ٹرمپ نے جے پی مورگن چیس کے خلاف اکاؤنٹس بند کرنے کے الزام میں 5 ارب ڈالر کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ بینک نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اکاؤنٹس سیاسی یا مذہبی بنیادوں پر بند نہیں کیے جاتے۔

برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے سب سے بڑے بینک جے پی مورگن چیس کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ بینک کے مطابق صدر ٹرمپ نے ان پر ’’ڈی بینکنگ“ یعنی بغیر وجہ کے بینک اکاؤنٹس بند کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے وکیل ایلے جینڈرو بریٹو نے جمعرات کی صبح فلوریڈا کی ریاستی عدالت، میامی میں صدر ٹرمپ اور ان کی متعدد کمپنیوں کی جانب سے 5 ارب ڈالر کا دعویٰ دائر کیا۔ رائٹرز کے مطابق فاکس بزنس نے اس مقدمے کی رپورٹ دی ہے۔

مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جے پی مورگن چیس نے اپنے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وضاحت کے مدعی کے متعدد بینک اکاؤنٹس یک طرفہ طور پر بند کر دیے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر اپنے حامیوں کے حملے کے بعد مبینہ طور پر اکاؤنٹس بند کیے جانے پر آئندہ دو ہفتوں میں جے پی مورگن کے خلاف مقدمہ دائر کریں گے۔

بینک جے پی مورگن چیس نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں افسوس ہے کہ صدر ٹرمپ نے ہمارے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے، تاہم ہمارا ماننا ہے کہ اس مقدمے میں کوئی قانونی جواز نہیں۔ ہم صدر کے مقدمہ دائر کرنے کے حق اور اپنے دفاع، دونوں کا احترام کرتے ہیں۔

بینک نے ضاحت دی کہ وہ سیاسی یا مذہبی بنیادوں پر اکاؤنٹس بند نہیں کرتا، بلکہ صرف ان صورتوں میں ایسا کیا جاتا ہے جب کسی اکاؤنٹ سے کمپنی کو قانونی یا ریگولیٹری خطرات لاحق ہوں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مقدمے سے متعلق تمام قانونی امور صدر ٹرمپ کے نجی وکلا دیکھ رہے ہیں، جب کہ رائٹرز نے واضح کیا ہے کہ وہ مقدمے کی تفصیلات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ایک امریکی بینکنگ ریگولیٹر نے کہا تھا کہ امریکا کے نو بڑے بینک ماضی میں بعض متنازع صنعتوں کو مالی سہولیات فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جسے عمومی طور پر ڈی بینکنگ کہا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں بینکوں کو خاص طور پر قدامت پسند حلقوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا رہا ہے، جن کا الزام ہے کہ مالیاتی ادارے ”ووک“ سیاسی نظریات اپنا رہے ہیں اور بعض صنعتوں جیسے اسلحہ سازی اور فوسل فیول کے خلاف امتیازی سلوک کرتے ہیں۔ تاہم بینکوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ جے پی مورگن کو اثاثوں کے لحاظ سے امریکا کا سب سے بڑا مالیاتی ادارہ سمجھا جاتا ہے اور دنیا کے بڑے بینکوں میں بھی اس کا شمار ہوتا ہے۔

Read Comments