ہر وقت کچھ کھانے کا خیال، وجہ کیا ہے؟
کچھ لوگوں کو دن بھر یہی سوچ آتی رہتی ہے کہ اب کیا کھائیں، اگلا کھانا کب ہوگا یا ابھی کھایا ہے پھر بھی کچھ اور کھانے کا دل کر رہا ہے۔ اگر یہ کیفیت آپ کے ساتھ بھی رہتی ہے تو ماہرین کے مطابق اس کی ایک وجہ فوڈ نوائز ہو سکتی ہے۔
فوڈ نوائز کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ ایک ایسی حالت ہے جس میں انسان کا ذہن بار بار کھانے کی طرف چلا جاتا ہے، چاہے جسم کو اس وقت بھوک نہ بھی لگی ہو۔ یہ عام بھوک سے مختلف ہوتا ہے کیونکہ بھوک کھانا کھانے کے بعد ختم ہو جاتی ہے، جبکہ فوڈ نوائز میں کھانے کے خیالات ختم نہیں ہوتے۔
فوڈ نوائز کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ وقت پر کھانا نہیں کھاتے، کھانے میں پروٹین اور فائبر کم ہوتے ہیں یا زیادہ تر فاسٹ فوڈ، میٹھا اور جنک فوڈ استعمال کرتے ہیں تو دماغ بار بار کھانے کا تقاضا کرنے لگتا ہے۔ ایسی غذائیں دماغ میں خوشی کا احساس پیدا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے انسان بھوک کے بغیر بھی کھانے کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔
بعض اوقات لوگ فوڈ نوائز کو بھوک یا جذباتی کھانے سے ملا دیتے ہیں، لیکن یہ ان سے مختلف ہے۔ بھوک جسم کی ضرورت ہوتی ہے، جذباتی کھانا اکثر ٹینشن یا اداسی میں ہوتا ہے، جبکہ فوڈ نوائز میں کھانے کے خیالات ہر وقت ذہن میں چلتے رہتے ہیں، چاہے انسان پرسکون ہی کیوں نہ ہو۔
دماغ کا ریوارڈ سسٹم بھی فوڈ نوائز میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ چینی، چکنائی اور نمک سے بھرپور غذائیں دماغ میں ڈوپامین خارج کرتی ہیں، جو خوشی اور تسکین کا احساس پیدا کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جسم حقیقی بھوک کے بجائے خوشی کے اس احساس کی تلاش میں کھانے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، جس سے فوڈ نوائز مزید بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سخت ڈائٹنگ اور زیادہ پابندیاں بھی فوڈ نوائز کو بڑھا دیتی ہیں۔ جب ہم خود کو کچھ چیزیں کھانے سے روکتے ہیں تو وہی چیزیں ہمیں زیادہ یاد آنے لگتی ہیں۔ کیلوریز گننا، ہر کھانے کو اچھا یا برا کہنا اور بار بار خود کو کنٹرول کرنے کی کوشش ذہنی دباؤ بڑھا دیتی ہے۔
یہ مسئلہ ہر شخص میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔ نیند پوری نہ ہونا، زیادہ ذہنی دباؤ، ہارمونز میں تبدیلی، بڑھتی عمر اس کی کیفیت کو بڑھا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ہر وقت کھانے کی ویڈیوز دیکھنا بھی فوڈ نوائز کو بڑھا سکتا ہے۔ آج کل فوڈ بلاگز اور ڈیلیوری ایپس کے ذریعے ہر وقت کھانا ہر وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا ہے، اس لیے دماغ کا کھانے کی طرف جانا عام بات بن گئی ہے۔
اگر فوڈ نوائز زیادہ ہو جائے تو یہ ذہنی سکون کو متاثر کر سکتا ہے۔ انسان ہر وقت سوچتا رہتا ہے کہ کیا کھانا ہے یا کیا نہیں کھانا، جس سے تھکن اور پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ ذہنی توانائی کم ہوتی ہے اور کھانا فطری عمل کے بجائے ایک مشکل فیصلہ بن جاتا ہے۔
بعض لوگوں میں اس کی وجہ سے بلا وجہ اسنیکس کھانے کی عادت پڑ جاتی ہے اور وزن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ کھانے کے بارے میں سوچنا خود کوئی بری بات نہیں ہے۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب یہ سوچیں روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بن جائیں یا انسان کو پریشان کرنے لگیں۔
فوڈ نوائز کو کم کرنے کے لیے بہتر ہے کہ وقت پر سادہ اور متوازن کھانا کھایا جائے، زیادہ دیر بھوکا نہ رہا جائے، نیند پوری کی جائے اور ذہنی دباؤ کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ ہر وقت کھانے کے بارے میں حساب کتاب کرنے کے بجائے اپنے جسم کی بات سننا زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ نوائز کو ایک مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک کیفیت سمجھنا چاہیے۔ جب ہم اسے سمجھ لیتے ہیں تو خود پر الزام دینے کے بجائے بہتر عادات اپنا سکتے ہیں، تاکہ کھانا ہماری زندگی کا سکون بنے، نہ کہ پریشانی۔