اپ ڈیٹ 22 جنوری 2026 12:33pm

کراچی کو وفاق کا حصہ اور معاشی دارالخلافہ بنایا جائے: مصطفیٰ کمال

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی میں پیش آںے والے سانحہ گل پلازہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ اس سانحے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جس کا دکھ پورے شہر کے ساتھ وہ بھی برابر کے شریک ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات نے کراچی کے شہریوں کو بار بار صدموں سے دوچار کیا ہے اور یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا یہ شہر کا آخری سانحہ ہوگا یا نہیں۔

مصطفیٰ کمال نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو میں صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی گزشتہ اٹھارہ برس سے سندھ میں برسرِ اقتدار ہے، اس کے باوجود کراچی بنیادی سہولتوں اور تحفظ سے محروم ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ریاست نے شہریوں کو کن لوگوں کے حوالے کر رکھا ہے اور شہری کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔

ان کے مطابق کراچی کے عوام آج بھی ریاست کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ کب ان کی دادرسی کرے گی۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی نے طویل عرصے تک بدامنی، قتل و غارت اور لسانی و فرقہ وارانہ تشدد کا سامنا کیا، جہاں رنگ، نسل، زبان اور مسلک کی بنیاد پر لوگ مارے جاتے تھے اور روزانہ درجنوں جانیں ضائع ہوتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شہر کے عوام نے ہمیشہ قربانیاں دیں، مگر اس کے باوجود ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے جاتے رہے۔

مصطفیٰ کمال نے اس تاثر کو رد کیا کہ موجودہ مسائل کی ذمہ داری کسی ایک جماعت یا گروہ پر ڈال دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آج عمارتیں غیر محفوظ ہیں تو کیا یہ سب غلط تعمیرات حالیہ برسوں میں ہوئیں، اور کیا ان سب کی ذمہ داری ماضی پر ڈالنا درست ہے۔

ان کے مطابق حق بات کرنے والوں کو بلیک میل کیا جاتا ہے اور پرانے الزامات کو دباؤ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیراعظم بھی چاہیں تو کراچی کے لیے کھل کر اقدامات نہیں کر سکتے کیونکہ سیاسی ناراضیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ وہ ماضی کے الزامات سے بلیک میل نہیں ہوں گے اور کراچی کے مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کراچی کو صوبے کے بجائے وفاق کے ماتحت کیا جائے اور اسے پاکستان کا معاشی دارالحکومت قرار دیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم ملک کے لیے فائدے کے بجائے مسائل پیدا کر رہی ہے اور اس کے تحت ملنے والے اختیارات شہریوں کی فلاح کے لیے استعمال نہیں ہو رہے۔

انہوں نے اس ترمیم کو ختم کرنے یا اس پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔

مصطفیٰ کمال نے بجلی، پانی اور گیس کی لوڈشیڈنگ، کوٹا سسٹم کے تحت نوکریوں کی کمی اور شہری سہولتوں کی عدم دستیابی کا بھی ذکر کیا۔

ان کے مطابق کراچی کے نوجوانوں کو ان کے حصے کا حق نہیں مل رہا اور کوٹا سسٹم عملاً غیر مؤثر ہو چکا ہے۔

انہوں نے شہر میں جمہوری دہشتگردی بند کرنے اور شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی پورے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس لیے اس شہر کے ساتھ خصوصی اور منصفانہ سلوک ناگزیر ہے، تاکہ یہاں کے شہری بھی خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کر سکیں۔

Read Comments