ایران مظاہرے: ہلاکتوں کے سرکاری اعدادوشمار جاری، 2 ہزار سے زائد شہید قرار
ایران کی حکومت نے ملک گیر مظاہروں کے خلاف کارروائی کے بعد پہلی بار سرکاری طور پر ہلاکتوں کی تعداد جاری کردی ہے، جو بیرونِ ملک سرگرم انسانی حقوق کے اداروں کے اعداد و شمار سے نمایاں طور پر کم ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق وزارتِ داخلہ اور فاؤنڈیشن آف مارٹرز اینڈ ویٹرنز افیئرز نے بتایا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 117 افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کے مطابق ان میں 2 ہزار 427 افراد عام شہری اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار شامل ہیں، تاہم باقی ہلاکتوں کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
ماضی میں بھی ایران کی حکومت پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ احتجاجی واقعات میں جانی نقصان کی مکمل یا درست تفصیلات فراہم نہیں کرتی۔
دوسری جانب امریکا میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی نے ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 4 ہزار 902 بتائی ہے اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے اندر موجود اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ہر ہلاکت کی تصدیق کرتا ہے، اسی وجہ سے اس کے اعداد و شمار کو ماضی میں بھی قابلِ اعتماد سمجھا جاتا رہا ہے۔ دیگر انسانی حقوق کے گروپ بھی سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ تعداد بتا رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے آزادانہ طور پر ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکے، جس کی ایک بڑی وجہ ایران میں انٹرنیٹ کی بندش اور بین الاقوامی کالز پر پابندیاں بتائی جا رہی ہیں۔
مقامی صحافیوں کی رپورٹنگ پر بھی سخت پابندیاں عائد ہیں، جبکہ سرکاری میڈیا مظاہرین کو غیر ملکی طاقتوں سے منسلک قرار دیتا رہا ہے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
ادھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عالمی اقتصادی فورم ڈیووس نے انہیں مدعو کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا اور امریکا کا ایک طیارہ بردار بحری بیڑا مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
عراقچی نے ایک امریکی اخبار میں شائع مضمون میں کہا کہ مظاہروں کا پُرتشدد مرحلہ 72 گھنٹوں سے کم رہا اور تشدد کے لیے مسلح عناصر کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ تاہم ایران سے باہر آنے والی ویڈیوز میں سکیورٹی فورسز کو مبینہ طور پر غیر مسلح مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر حکومتی مؤقف میں وضاحت نہیں کی گئی۔
انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق تقریباً 26 ہزار 500 افراد کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض قیدیوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں سزائے موت کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
حالیہ ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ کئی دہائیوں میں ایران میں ہونے والے کسی بھی احتجاج سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اگرچہ چند دنوں سے مظاہرے سامنے نہیں آئے، لیکن اطلاعات کی بندش کے باعث خدشہ ہے کہ اصل جانی نقصان وقت کے ساتھ مزید بڑھ کر سامنے آ سکتا ہے۔