سانحہ گل پلازہ میں اموات کی تعداد 67 ہوگئی، 62 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل
کراچی کی اہم شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے بعد سرچ آپریشن کے دوران ایک دکان سے مزید 2 انسانی باقیات برآمد کرلی گئیں، جس کے بعد عمارت کے ملبے سے ملنے والی لاشوں کی تعداد 67 ہوگئیں جب کہ 62 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔
سانحہ گل پلازہ کے بعد جاں بحق افراد کی شناخت کے لیے لاشوں اور انسانی باقیات کے ڈی این اے سیمپلز لینے کا عمل جاری ہے، جہاں آج مزید 3 افراد کی شناخت کر لی گئی ہے، جس کے بعد اب تک شناخت کیے جانے والے افراد کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔
ایک لاش کی شناخت دکان کے مالک ابوبکر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی شناخت ان کے بیٹے تاج نے ہاتھ میں موجود انگوٹھی اور گھڑی کی مدد سے کی جب کہ دوسری لاش کی شناخت دکان کے ملازم عامر کے نام سے ہوئی ہے، جس کی تصدیق ڈیسک سی پی ایل سی کی جانب سے کی گئی۔
اس کے علاوہ ایک اور لاش کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے کرلی گئی ہے، جس کی شناخت رفیق ولد انور کے نام سے کی گئی ہے، ورثا نے لاش کا ڈی این اے سیمپل جمع کروایا تھا۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق آج مزید 5 انسانی باقیات کے ڈی این اے سیمپلز لے لیے گئے ہیں، آج مجموعی طور پر 17 انسانی باقیات کے سیمپلز لیے گئے ہیں اور شناخت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ باقیات جلی ہوئی ہیں، جس کے باعث نمونے لینے میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
پولیس سرجن کے مطابق لاشوں اور انسانی باقیات کے مجموعی ڈی این اے سیمپلز کی تعداد 67 تک پہنچ چکی ہے، اب تک نکالی جانے والی 67 لاشوں اور انسانی باقیات میں سے 62 کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق عمارت کے اندر سے پیسوں سے بھرا بیگ برآمد کیا گیا ہے، بیگ میں 25 لاکھ روپے موجود تھے، بیگ یونین صدر تنویر پاستہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔
سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی رپورٹ تیار
خیال رہے کہ تحقیقاتی حکام نے سانحہ گل پلازہ کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ تیار کرلی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں، ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی۔
تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آرٹیفیشل دکان مالک کے 2 بیٹے ایک دوسرے پر ماچس سے آگ پھیک رہے تھے، ایک بچے نے آگ کی تیلی پھینکی دوسرا بچہ اس سے بچ کر سائڈ ہوگیا، ماچس کی تیلی نیچے گری جہاں کیمکل موجود تھا اور آگ بھڑک اٹھی، برابر والی دکان سے ایک شخص نے آکر آگ پر قابو پایا مگر آگ دوبارہ بھڑکی اور اے سی کی لائن میں چلی گئی دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پورے گل پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تفتیشی ذرائع نے کہا کہ حادثے کے وقت گل پلازہ کے بیشتر دروازے بند تھے، آمد و رفت کا ذریعہ صرف دو دروازے تھے، آتشزدگی کے دوران اندر پھنسے لوگوں نے دروازہ توڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ نے 2 مختلف مقامات سے نمونے جمع کیے، 3 نمونے مصنوئی پھولوں کی دکان سے جمع کیے گئے اور 3 سمپلز گل پلازہ کے دیگر مختلف مقامات سے جمع کیے گئے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق لاشوں کا کیمیائی تجزیہ کروانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، کیمیائی تجزیے سے مختلف اعضا پر موجود زخموں کی جانچ کی جائے گی۔
گُل پلازہ مخدوش قرار
ادھر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) اور پاکستان انجنیئرنگ کونسل نے آگ سے متاثرہ گُل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔
جمعرات کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجنیئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا۔ دوے کے بعد تکنیکی کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دیتے ہوئے سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریشن کے بعد گرادیا جائے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ گل پلازہ 8124 گز اور 1102 دکانوں پر مشتمل پلازہ ہے، گل پلازہ میں ہفتے کی شب آگ لگنے کے بعد پورا پلازہ جل گیا تھا۔ ایس بی سی اے نے بتایا کہ گل پلازہ سے متصل عمارتوں کا بھی معائنہ کیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے فرائض سے غفلت پر میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کوعہدے سے ہٹادیا ہے جب کہ ان کی جگہ گریڈ 19 کی سمیرا حسین کو اضافی چارج دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو نے بتایا تھا کہ کچھ انسانی اعضا کے علاوہ باقی لاشوں کو ڈی این اے کے لیے بھیجا جا سکتا ہے تاکہ ہلاکتوں کی تصدیق ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چل رہی افواہوں پر کان نہیں دھرا جائے اور شہری حقائق کے بجائے صرف مستند معلومات پر بھروسہ کریں۔
جاوید نبی کھوسو نے بتایا تھا کہ سانحے کی مکمل تحقیقات ہر پہلو سے جاری ہیں، ابتدائی طور پر یہ واقعہ صرف الیکٹرک شارٹ سرکٹ کے سبب ہونے والا نہیں بتایا جا سکتا اور اس کی وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عمارت کے سالم حصے میں سرچ آپریشن مکمل ہو چکا ہے جب کہ زمین بوس ہونے والے حصے میں ریسکیو اور سرچنگ ابھی جاری ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی تحقیقات کا حصہ ہے کہ دروازے بند کیوں کیے گئے تھے اور آیا اس کا سانحے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔