اپ ڈیٹ 22 جنوری 2026 12:40pm

سانحہ گُل پلازہ: 88 افراد تاحال لاپتا، فائنل سرچ کا حکم

کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک سانحے کے بعد ریسکیو، تلاش اور تحقیقات کا عمل مسلسل جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی کے مطابق اب تک 55 سے 60 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ لاپتا ہونے والوں میں 88 افراد کے نام شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے مزید لاشیں دبے ہونے کا خدشہ موجود ہے، اسی لیے رات بھر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری رکھا گیا۔

سول اسپتال کراچی منتقل کی گئی لاشوں میں سے 15 کی شناخت مکمل ہو چکی ہے، جبکہ 11 جسد خاکی لواحقین کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 61 سے تجاوز کر گئی ہے۔

بدھ کے روز بڑی تعداد میں انسانی باقیات سول اسپتال منتقل کی گئیں، جن میں سے کئی ناقابل شناخت حالت میں تھیں۔

حادثے میں مارے گئے ہونے والے واحد غیر مسلم شہری چرچل کی بھی شناخت ہو چکی ہے، جس کے لواحقین کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے واقعے کے بعد فائنل سرچ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آخری سرچ آپریشن کے مکمل ہونے کے بعد عمارت کو مسمار کر دیا جائے گا تاکہ مزید خطرات سے بچا جا سکے۔ آج کے سرچ آپریشن کے دوران ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھت کے گیٹ پر تالا لگا ہوا تھا، جس کی وجہ سے ممکنہ طور پر کئی افراد باہر نکلنے سے محروم رہے۔

آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گل پلازہ مارکیٹ کے چیئرمین تنویر پاستا نے بتایا کہ عمارت کے ملبے سے اب بھی لاشیں نکالی جا رہی ہیں اور ان کی حالت انتہائی خراب ہے، جس کے باعث شناخت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملبے سے بھرے دو ڈمپرز جو غائب ہوئے تھے وہ تاخیر سے پہنچے تھے، وہ ڈمپرز کلیئر ہو گئے ہیں تاہم ریسکیو کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔

ریسکیو حکام کے مطابق میزنائن فلور پر واقع ایک دکان سے 20 سے 25 افراد کی باقیات ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے کے دوران کئی افراد نے خود کو بچانے کے لیے اسی دکان میں پناہ لی تھی، جہاں وہ ایک دوسرے سے چپکے ہوئے پائے گئے۔

لاشوں کی حالت ناقابل شناخت ہونے کے باعث ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر شناخت ممکن نہیں، جس سے لواحقین کی مشکلات اور بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ آخری لاپتا شخص کے ملنے تک عمارت کو منہدم نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اب بھی ملبے کے نیچے انسانی باقیات موجود ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب کمشنر کراچی نے کہا کہ متاثرین کو آگ لگنے کا علم تھا، اس کے باوجود وہ عمارت میں موجود رہے، تاہم اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

سانحے کے چھٹے روز بھی لاپتا افراد کے اہلِ خانہ ملبے کے ڈھیر بنی عمارت کے سامنے امید اور خوف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ انتظار کر رہے ہیں۔

کئی خاندانوں کے پیارے تاحال لاپتا ہیں، جبکہ کچھ کو ناقابل شناخت لاشوں کی صورت میں اپنے عزیزوں کی خبر ملی ہے۔

ایک متاثرہ خاتون کا کہنا تھا کہ بس وہ چاہتی ہیں کہ لاش ہی مل جائے تاکہ انتظار ختم ہو اور دل کو کچھ قرار آئے۔

ادھر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گل پلازہ کے ساتھ واقع رمپا پلازہ کو بھی غیر محفوظ قرار دے دیا ہے۔

ایس بی سی اے کے مطابق گل پلازہ میں تیسرے درجے کی آتشزدگی کے باعث رمپا پلازہ کے ستون شدید متاثر ہوئے ہیں، جس پر عمارت کے نقصان زدہ اور خطرناک حصوں کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

رمپا پلازہ کی انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ اجازت کے بغیر کسی بھی سرگرمی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب گل پلازہ سانحے کی تحقیقات میں بھی تیزی آ گئی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے چار روز بعد عمارت کا مکمل ریکارڈ کمشنر کراچی کو جمع کرا دیا ہے۔

سات فائلوں پر مشتمل اس ریکارڈ میں تین زیر التواء عدالتی کیسز شامل ہیں جو 1992، 2015 اور 2021 سے متعلق ہیں۔

ان فائلوں میں خلاف ضابطہ تعمیرات، ری وائزڈ منصوبوں، ریگولرائزیشن پلان اور عمارت کی منظوری سے متعلق دستاویزات بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اصل فائلیں پلاٹ نمبر 32، پی آر ون پریڈی کوارٹرز، ضلع ساؤتھ میں جمع کرائی گئی ہیں۔

Read Comments