اپ ڈیٹ 21 جنوری 2026 09:31pm

گُل پلازہ آتشزدگی: دنیا میں ایسے واقعات پر کیسے قابو پایا جاتا ہے؟

کراچی کے گُل پلازہ میں 17 جنوری کی شب لگنے والی ہولناک آگ نے ایک سانحے کو جنم دیا۔ آتشزدگی کے ایسے واقعات دنیا بھر میں رونما ہوتے ہیں مگر اُن پر قابو پانے کا طریقہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر تین روز بعد قابو پایا گیا۔ اس آگ کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں کی تاحال کوئی خبر نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات دنیا بھر میں سامنے آتے ہیں مگر پاکستان میں ہر ایسے واقعے کے بعد فائر بریگیڈ کے رسپانس ٹائم اور حکمتِ عملی پر سوالیہ نشان اٹھنے لگتے ہیں۔

گُل پلازہ میں آگ پر قابو پانے کے لیے جدید طریقوں کے بجائے روایتی طریقوں کے استعمال پر بھی تاجر برادری اور شہریوں نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے صوبائی ادارے ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق گُل پلازہ میں موجود پلاسٹک اور دیگر سامان کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب گُل پلازہ مارکیٹ کے صدر اور متاثرہ دکاندار مسلسل یہ شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر تاخیر سے پہنچا، بروقت ہنگامی امداد سے آگ پر قابو پایا جاسکتا تھا۔

گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن کے دوران امدادی اہلکاروں کے پاس حفاظتی سامان اور آلات کی کمی کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ اس سانحے میں 33 سالہ فائر فائٹر فرقان عمارت میں پھنسے افراد کی جان بچاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا تھا اور امدادی سرگرمیوں کے دوران دو فائر فائٹرز زخمی بھی ہوئے۔

اس وقت عمارت کا چالیس فیصد حصہ منہدم اور باقی مخدوش ہوچکا ہے، جو کسی بھی وقت زمیں بوس ہوسکتا ہے۔

سانحہ گل پلازہ سے قبل کراچی میں آتشزدگی کے کئی بڑے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں۔ جن میں لانڈھی اور سائٹ ایریا کی فیکٹریاں شامل ہیں، جو زمیں بوس ہوئیں۔

دنیا بھر میں فائر بریگیڈ کے لیے آگ پر قابو پانے کا نظام اب جدت اختیار کرچکا ہے۔ آگ پر جلد از جلد قابو اور کم سے کم نقصان کے لیے اطلاع ملتے ہی فوری موقع پر پہنچنے کی کوشش کی جاتی ہے اور آگ کی نوعیت کے لحاظ سے مخصوص اور جدید طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

عالمی سطح پر نقصانات سے بچنے کے لیے فائرفائٹنگ کے طے شدہ اصول متعین ہیں۔ یہ وہ طریقے اور آلات ہیں کہ جن کی مدد سے فوری طور پر آگ پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

رسپانس ٹائم

فائر بریگیڈ کی زبان میں رسپانس ٹائم کا مطلب آگ لگنے یا ایمرجنسی کال موصول ہونے سے لے کر پہلی فائر ٹینڈر یا ریسکیو یونٹ کے موقع پر پہنچنے تک کا کُل وقت ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں کل رسپانس ٹائم 5 سے 6 منٹ کے درمیان ہوتا ہے۔

امریکا کے شہری علاقوں میں فائر بریگیڈ کا کُل رسپانس ٹائم 5 منٹ 20 سیکنڈ مقرر ہے۔ اس میں 60 سے 80 سیکنڈ گاڑی کی روانگی کے لیے اور 4 منٹ سفر کے لیے ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں اوسط رسپانس ٹائم تقریباً 9 منٹ ہے، جبکہ لندن جیسے شہروں میں پہلی گاڑی کی روانگی کے لیے 6 منٹ کا وقت مقرر ہوتا ہے۔ دبئی میں 4 سے 6 منٹ کا وقت مقرر ہے، جو دنیا کے تیز ترین رسپانس ٹائمز میں شمار ہوتا ہے۔

آگ کے واقعے میں ہر گزرتا سیکنڈ اہم ہوتا ہے کیونکہ آگ کی شدت ہر ایک منٹ بعد دوگنی ہو سکتی ہے اس لیے رسپانس ٹائم جتنا کم ہوگا، جانی و مالی نقصان کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان میں فائر بریگیڈ کے لیے باضابطہ طور پر کوئی طے شدہ رسپانس ٹائم مقرر نہیں ہے تاہم سندھ اسمبلی میں 19 جنوری کو پیش کردہ قرارداد میں عالمی اصولوں کو اپنانے کی سفارش کی گئی تھی۔

فائر کیٹیگریز

عالمی سطح پر آگ کی شدت کو چار درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا جاتا ہے کہ آگ کی شدت کیا ہے، کتنا خطرہ ہے اور اس پر قابو پانے کے لیے کتنے وسائل (گاڑیاں اور عملہ) درکار ہیں۔

پہلا درجہ

یہ ابتدائی سطح کی آگ ہوتی ہے جو ایک کمرے یا کسی چھوٹے حصے تک محدود ہوتی ہے۔ اس کے لیے عام طور پر 2 سے 3 فائر ٹینڈرز بھیجے جاتے ہیں۔ جس کا فیصلہ کنٹرول روم کو ملنے والی ابتدائی اطلاع کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

دوسرا درجہ

جب آگ ایک منزل یا عمارت کے بڑے حصے میں پھیل جائے اور اسے بجھانے کے لیے مزید مدد کی ضرورت ہو تو جائے وقوعہ پر موجود فائر آفیسر کنٹرول روم کو آگ کی شدت سے آگاہ کرتا ہے۔

اس صورت میں 5 سے 10 فائر ٹینڈرز، ایک اسنارکل اور اگر بلند عمارت ہو تو اضافی واٹر باؤزرز شامل کیے جاتے ہیں۔

تیسرا درجہ

اگر پوری عمارت آگ کی لپیٹ میں آجائے اور آگ قابو سے باہر ہونے لگے تو چیف فائر آفیسر یا کوئی دوسرا سینئر موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لینے کے بعد ’تھرڈ الارم‘ (تیسرا درجہ) ڈیکلیئر کرتا ہے۔ اس صورت میں 10 سے 20 فائر ٹینڈرز اور شہر بھر کے مختلف اسٹیشنز سے ٹیمیں طلب کی جاتی ہیں۔

چوتھا درجہ

یہ آگ کا سب سے خطرناک درجہ ہوتا ہے۔ جب آگ سے کسی بڑے سانحے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے تو میئر یا چیف فائر آفیسر ’جنرل الارم‘ (چوتھے درجے) کا اعلان کرتا ہے۔ اس صورت میں شہر کی تمام دستیاب گاڑیاں، اسنارکلز اور دیگر اداروں کی مدد لی جاتی ہے۔

پانی کے چھڑکاؤ کے علاوہ دوسرے طریقے

دنیا بھر میں سب سے پہلے آگ کو پانی سے ہی بجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم حالات مختلف ہوں تو پانی کے علاوہ دیگر طریقوں کا انتخاب بھی کیا جاتا ہے۔

آگ کی نوعیت اور اس کی ممکنہ وجوہات کو دیکھتے ہوئے حکمتِ عملی مرتب کی جاتی ہے مثلاً بجلی سے لگنے والی آگ پر پانی ڈالنا صورتحال کو مزید تباہ کُن بنا سکتا ہے اس لیے شارٹ سرکٹ میں لگنے والے ممالک کو متبادل طریقوں سے بجھایا جاتا ہے۔

واٹر مِسٹ ٹیکنالوجی

اس طریقے کا استعمال آگ کو طبیعی طور پر ٹھنڈا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سسٹم پانی کو انتہائی باریک قطروں (دُھند) میں بدل دیتا ہے جو آگ کو چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے اور اسے ٹھنڈا کر دیتی ہے۔

یہ طریقہ لائبریریوں، تاریخی میوزیمز یا جہازوں کے اندر آگ لگنے کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں آگ بجھانا اور درجہ حرارت کم کرنا دونوں ضروری ہوتے ہیں۔

گیس سَپریشن سسٹم

اس سسٹم سے پورے کمرے میں مخصوص گیسز بھر جاتی ہیں۔ جس کے بعد ہونے والے ’کیمیکل ری ایکشن‘ سے آگ بجھ جاتی ہے۔

یہ طریقہ سَرور رومز، بینک لاکرز اور ایسی جگہوں پر آتشزدگی کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے جہاں پانی کے باعث دوسری قیمتی اشیاء اور دستاویزات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہوتا ہے۔

اس سسٹم کے متحرک ہوتے ہی ’اِنرٹ گیسز‘ مثلاً نائٹروجن، آرگون یا دوسری گیسز پھیل جاتی ہیں جو اس جگہ پر آکسیجن کی مقدار کو نیچے لے آتی ہیں۔ یوں آگ بھی بجھ جاتی ہے اور قیمتی سامان بھی محفوظ رہتا ہے۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی جلتی ہوئی موم بتی پر گلاس الٹ کر رکھ دیں تو آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے آگ بجھ جاتی ہے۔

فوم بلینکِٹنگ

وہ مقامات جہاں پر پٹرول، ڈیزل، تیل یا کسی کیمیکل کے ذریعے آگ لگی ہو وہاں اس طریقے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کے تحت فوم نما کیمیکل کو آگ پر پھینکا جاتا ہے جو آگ کی وجہ بننے والے ایندھن یا کیمکیل کی سطح پر تہہ بنا دیتا ہے۔

فوم ایک کمبل کی صورت اختیار کرلیتا ہے جو آگ کو آکسیجن کی رسائی روک دیتا ہے، یوں آگ پھیلنے کے بجائے بجھ جاتی ہے۔

ڈرون اور روبوٹک فائر فائٹنگ

زمین پر آگ بجھانے کے مقابلے میں بلند و بالا عمارتوں میں آگ بجھانا زیادہ پیچیدہ اور مشکل عمل ہوتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک میں اب فائر فائٹر ڈرونز کا استعمال عام ہے جنہیں بلند عمارتوں،کیمیکل فیکٹریوں یا ایٹمی پلانٹ پر لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ ڈرونز بلندی پر جا کر فوم یا پانی پھینک کر آگ بھجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی جگہیں جہاں شدید تپش کے باعث انسانی جان کو خطرہ لاحق ہو تو اس صورت میں بھی یہ ڈرونز ان مقامات کے اندر جا کر آگ بجھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

گزشتہ برس دبئی کے مشہور میرینا پِنیکل ٹاور کی بالائی منزلوں میں لگنے والی شدید آگ پر جدید ڈرونز کی مدد سے قابو پایا گیا تھا۔ اس دوران ریسکیو ٹیموں نے تقریباً 4 ہزار افراد کو بحفاظت باہر نکالا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

میرینا پِنیکل ٹاور میں لگنے والی آگ کی اطلاع ملتے ہی محض 6 منٹ میں ڈرونز نے بلندی پر جا کر آگ بجھانا شروع کر دی تھی اور صرف 22 منٹ میں پوری عمارت کو محفوظ بنا لیا گیا تھا۔

یہ ڈرون 1200 لیٹر فوم اور پانی کے ٹینک سے لیس ہوتے ہیں اور تھرمل کیمروں کی مدد سے آگ کو بجھاتے ہیں۔

فائر فائٹرز کے لیے حفاظتی سامان

فائر فائٹرز کے لیے ضروری حفاظتی آلات ان کی زندگی بچانے کے لیے ڈھال کا کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ انہیں اکثر شدید تپش اور زہریلے دھوئیں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بنکر گیئر یا فائر سوٹ

یہ خاص قسم کا لباس ہوتا ہے جو تین تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اسکی بیرونی تہہ براہِ راست آگ اور تپش کو روکتی ہے اور اندرونی تہہ پانی اور کیمیکلز کو جسم تک پہنچنے سے روکتی ہے۔ یہ لباس جسم کے درجہ حرارت کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔

تھرمل امیجنگ کیمرے

یہ سب سے اہم آلہ ہے جو دھوئیں کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے فائر فائٹرز کو اندھیرے اور دھوئیں میں پھنسے ہوئے افراد اور آگ کے مرکز کو تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔

اس کے علاوہ عمارت سے دھوئیں کو باہر نکالنے اور حدِ نگاہ بہتر بنانے کے لیے چند دیگر آلات بھی فائر بریگیڈ کی ٹیم کے ضروری سامان میں موجود ہوتے ہیں۔

سانس بحال رکھنے کے آلات

یہ سلنڈر اور ماسک پر مشتمل کِٹ ہوتی ہے جو فائر فائٹرز کو دھوئیں کے زہریلے اثرات سے بچا کر صاف آکسیجن فراہم کرتی ہے۔

پاکستان میں فائر بریگیڈ کا عملہ اور حکام اس سامان کی کمی کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے شدید آگ اور دھوئیں سے بھری عمارتوں کے اندر جا کر ریسکیو کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق شہر کی 266 اہم عمارتوں میں سے صرف 90 میں دھوئیں کا پتہ لگانے والے سینسر (اسموک ڈیٹیکٹرز) نصب ہیں جو آگ لگنے کی صورت میں الرٹ کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں گُل پلازہ جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے جدید تقاضوں کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ فائر فائٹنگ کے عالمی اصولوں کے عین مطابق فائر بریگیڈ کے عملے کی تربیت اور فائر سیفٹی سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ضروری ہے۔

Read Comments