موبائل فون مرمت کے لیے دینے سے پہلے یہ احتیاط یقینی بنائیں
موبائل فون دکان یا سروس سینٹر پرمرمت کے لیے دیتے وقت آپ کی پرائیویسی اور ذاتی ڈیٹا کی حفاظت بہت اہم ہے۔ فون سروس کے لیے دینے سے پہلے چند احتیاطی اقدامات اختیار کرنا نہایت ضروری ہیں تاکہ حساس معلومات غیر محفوظ نہ ہوں۔
برانڈ کے ’آفیشل سروس سینٹر‘ توعام طور پر صارف سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ اپنا ڈیٹا حذف کر چکے ہیں۔ اگر نہیں، تو وہ ڈیٹا کا بیک اپ کرلیں۔ تاکہ فون کو ری سیٹ کیا جاسکے۔
لیکن تھرڈ پارٹی سروس سینٹر اور دکاندار اکثر صارف سے فون کا پاسورڈ یا پِن مانگ لیتے ہیں۔ ان کا جواز یہ ہوتا ہے کہ ”ڈیوائس چیک کرنے کے لیے لاک ہٹانا ضروری ہے“ یا ”ہم فون مرمت نہیں کر سکتے اگر یہ لاکڈ ہو۔“ اور یہیں سے خطرناک عمل شروع ہوتا ہے کیونکہ ایک بار جب پاسورڈ دے دیا جائے، تو وہ لوگ فون میں موجود تمام معلومات تک آزادانہ رسائی حاصل کر لیتے ہیں، چاہے وہ تصاویر ہوں، بینک کی تفصیلات یا ای میلز۔ اگرممکن ہو تو فون کو ریپیئر موڈ یا سروس موڈ پر کردیں۔
فون واپس ملنے کے بعد سب کچھ معمول کے مطابق لگتا ہے، لیکن چند گھنٹوں یا دنوں بعد صارف کو غیر معروف نمبرز سے کالز آنا شروع ہو جاتی ہیں، کبھی کبھی تاوان کے مطالبات کے ساتھ یا ڈیٹا پہلے ہی لیک ہو چکا ہوتا ہے۔
سب سے پہلے، یہ جاننا ضروری ہے کہ کسی بھی سروس سینٹر کو آپ کا پاسورڈ مانگنے کا حق نہیں ہے۔ جدید اسمارٹ فونز میں ’ریپیر‘ یا ’مینٹیننس‘ موڈ موجود ہوتا ہے۔ اس موڈ میں فون کی تمام فعالیت چیک کی جا سکتی ہے، لیکن ذاتی ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔
اگر فون میں یہ موڈ موجود نہ ہو، تو گیسٹ موڈ کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ فون میں ایک علیحدہ اسپیس بناتا ہے، جس میں صارف کی ذاتی معلومات محفوظ رہتی ہیں اور فون کو جانچنے والا صرف محدود رسائی حاصل کرتا ہے۔
اور اگر یہ دونوں سہولیات دستیاب نہ ہوں، تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ فون کا مکمل بیک اپ لے کر ری سیٹ کر دیا جائے۔ مرمت کے بعد ڈیٹا واپس بحال کیا جا سکتا ہے۔
فون مرمت کے لیے دینا آسان عمل لگتا ہے، مگر بغیر احتیاط کے یہ آپ کی پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
ہمیشہ اس بات پر گہری نظر رکھیں کہ سروس سینٹر آپ کے ڈیٹا تک غیر ضروری رسائی تو نہیں چاہ رہا، اور جدید فون کے محفوظ موڈز یا ری سیٹ کے ذریعے اپنی معلومات کو محفوظ رکھیں۔
اسمارٹ فون کی مرمت صرف ہارڈویئر کی دیکھ بھال نہیں، بلکہ ذاتی معلومات کی حفاظت کا نہایت اہم معاملہ بھی ہے۔ یاد رکھیں ایک لمحے کی غفلت مستقبل میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔