اپ ڈیٹ 21 جنوری 2026 11:27am

’غزہ امن بورڈ‘ کے مستقبل پر چہ مگوئیاں؛ ’یہ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں‘: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا ارادہ نہیں، اقوام متحدہ کو اپنا کام جاری رکھنے دینا چاہیے۔

غزہ امن بورڈ کا اہم اجلاس جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہوگا، اجلاس سے قبل ہی یورپی ممالک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔

یورپی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیا جانے والا غزہ امن بورڈ دراصل ایک ’چھوٹی اقوام متحدہ‘ بنانے کی کوشش ہے، جو مکمل طور پر امریکا کے اثر و رسوخ میں ہوگی۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اس بورڈ میں شمولیت کی کھلے الفاظ میں مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانس اس دعوت کو قبول نہیں کرے گا۔

میکرون کے مطابق امن بورڈ کا دائرہ کار اقوام متحدہ کے مینڈیٹ سے باہر بڑھتا ہوا نظر آتا ہے، جو عالمی سفارتی نظام کے لیے تشویش ناک ہے۔

دوسری جانب مراکش نے غزہ امن بورڈ کی بانی رکنیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ مراکش کی وزارتِ خارجہ کے مطابق بادشاہ محمد ششم نے اس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کی حمایت کے طور پر کیا ہے۔

بلومبرگ کے مطابق فرانس کے علاوہ دیگر یورپی ممالک بھی ٹرمپ کے اس منصوبے پر تحفظات رکھتے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ یہ فورم اقوام متحدہ کے متوازی ایک ایسا پلیٹ فارم بن سکتا ہے جس پر امریکی اثر نمایاں ہوگا۔

اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ میں عدم شمولیت پر فرانس کو دو سو فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دے دی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ چند ماہ میں صدر میکرون کی اقتدار کی مدت ختم ہو جائے گی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق مجوزہ معاہدے کے مسودے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ غزہ امن بورڈ کے تاحیات سربراہ رہیں گے، جس پر یورپی حلقوں میں مزید تشویش پائی جا رہی ہے۔

ادھر عہدۂ صدارت کو ایک سال مکمل ہونے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ غزہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں ہے اور اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر وہ نیٹو کے ساتھ نہ ہوتے تو آج نیٹو تاریخ میں راکھ کا ڈھیر بن چکا ہوتا۔ انہوں نے گرین لینڈ کے حوالے سے بھی کہا کہ ایسا حل نکالا جائے گا جس سے نیٹو بھی خوش ہوگا اور امریکا بھی۔

امریکی صدر نے پیرس میں ہونے والے جی سیون اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان بھی کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر جنگ نہ رکتی تو دس سے بیس ملین افراد مارے جا سکتے تھے، تاہم انہوں نے یہ جنگ رکوائی۔ ٹرمپ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ان سے کہا کہ آپ نے کروڑوں جانیں بچائیں۔

صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر امریکی سپریم کورٹ نے ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا تو امریکا کو سیکڑوں ارب ڈالر کے ٹیرف واپس کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اپنی ایک سالہ کارکردگی پر مبنی کتاب بھی جاری کر دی۔

Read Comments