شائع 20 جنوری 2026 11:28am

بیوی کو قتل کیا مگر قاتل نہیں، بھارتی شخص کا عدالت میں انوکھا دعویٰ

آسٹریلیا کے شہر ایڈیلیڈ میں بھارتی نژاد 42 سالہ شخص وِکرانت ٹھاکر نے عدالت میں اپنی اہلیہ سپریا ٹھاکر کی ہلاکت کا اعتراف تو کر لیا مگر قتل کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے خود کو قاتل ماننے سے انکار کر دیا۔ ملزم نے عدالت کو بتایا کہ اس نے جان بوجھ کر قتل نہیں کیا بلکہ یہ ایک غیر ارادی طور پر پیش آنے والا واقعہ ہے۔

وِکرانت ٹھاکر 14 جنوری کو ایڈیلیڈ مجسٹریٹس کورٹ میں دوسری بار پیش ہوا، جہاں اس نے اپنے وکیل کے مشورے پر عدالت سے کہا،’’میں غیر ارادی قتل (مین سلاٹر) کا اعتراف کرتا ہوں، مگر میں قتل کا مجرم نہیں ہوں۔‘‘

ملزم پر دسمبر 2025 میں اپنی 36 سالہ اہلیہ سپریا ٹھاکر کو ہلاک کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق 21 دسمبر کو ایڈیلیڈ کے شمالی مضافاتی علاقے میں واقع ایک گھر سے ایمرجنسی کال موصول ہوئی، جہاں پولیس نے سپریا ٹھاکر کو بے ہوش حالت میں پایا۔ پولیس نے سی پی آر کے ذریعے جان بچانے کی کوشش کی، مگر وہ دم توڑ گئیں۔

پراسیکیوشن کے مطابق قتل ایک سنگین اور ارادی جرم سمجھا جاتا ہے، جبکہ غیر ارادی قتل ایسے معاملات میں لاگو ہوتا ہے جہاں ملزم کی نیت قتل کی نہ ہو لیکن اس کے عمل کے نتیجے میں موت واقع ہو جائے۔

کیس کی ابتدائی سماعت 22 دسمبر کو ہوئی تھی، جس میں ملزم نے ضمانت کی درخواست نہیں دی تھی۔ عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر کیس کی سماعت مؤخر کر دی تھی تاکہ ڈی این اے رپورٹس اور پوسٹ مارٹم سمیت دیگر شواہد جمع کیے جا سکیں۔ اب اس مقدمے کی اگلی سماعت اپریل میں متوقع ہے۔

دوسری جانب، سپریا ٹھاکر کے دوستوں اور کمیونٹی کے افراد نے ان کے کمسن بیٹے کی کفالت اور مستقبل کے لیے فنڈ ریزنگ مہم شروع کر دی ہے۔

وہ اپنے بیٹے کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات کام کرتی تھیں۔ وہ نرس بننا چاہتی تھیں اور لوگوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی تھیں۔

Read Comments