گرین لینڈ ’گرین لینڈ ہی رہے گا‘، ٹرمپ کے سابق مشیر نے خبردار کردیا
ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک سابق اعلیٰ مشیر نے کہا ہے کہ امریکی صدر گرین لینڈ کو اس کی ملکیت تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی بی ایم کے وائس چیئرمین گیری کوہن کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ، گرین لینڈ ہی رہے گا۔
رپورٹ کے مطابق گیری کوہن جو امریکا کے نمایاں ٹیکنالوجی کے رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ کی دوڑ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کا حصہ ہونے والے کسی آزاد ملک پر حملہ کرنا حد سے تجاوز کے مترادف ہوگا، جو اس بات کی علامت ہے کہ کاروباری اور سیاسی حلقے اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
گیری کوہن نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات ممکن ہے کسی مذاکراتی حکمتِ عملی کا حصہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ابھی ایک امریکی کانگریسی وفد کے اجلاس سے آیا ہوں اور میرا خیال ہے کہ ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں میں اس بات پر تقریباً مکمل اتفاق رائے ہے کہ گرین لینڈ، گرین لینڈ ہی رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ گرین لینڈ امریکا کی جانب سے جزیرے پر فوجی موجودگی میں اضافے پر آمادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ شمالی بحرِ اوقیانوس اور آرکٹک اوشین تیزی سے ایک بڑا عسکری خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا گرین لینڈ کے نایاب معدنیات کے وسیع مگر بڑی حد تک غیر استعمال شدہ ذخائر کے لیے آف ٹیک معاہدہ بھی کر سکتا ہے۔
گیری کوہن کا کہنا تھا کہ کسی ایسے ملک پر حملہ کرنا جو حملہ نہیں چاہتا اور جو نیٹو جیسے فوجی اتحاد کا حصہ ہے، میرے نزدیک یہ ایک حد سے تجاوز کر جانے والی بات ہے۔
انہوں نے عندیہ دیا کہ صدر ٹرمپ ممکنہ طور پر اپنے مطالبات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، جو ماضی میں بھی ایک مؤثر مذاکراتی حربہ ثابت ہو چکا ہے۔
ٹرمپ کے سابق مشیر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کو ان کامیابیوں کا کریڈٹ دینا ہوگا جو انہوں نے حاصل کیں، اور وہ کئی بار سمجھوتے کی صورتحال میں کچھ حاصل کرنے کے لیے حد سے آگے بڑھے۔ وہ اکثر کسی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تاکہ وہی حاصل کر سکیں جو وہ درحقیقت چاہتے ہیں۔ ممکن ہے وہ دراصل زیادہ فوجی موجودگی اور آف ٹیک معاہدہ چاہتے ہوں۔
گیری کوہن کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نایاب معدنیات کی اہمیت پر تیزی سے زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ گرین لینڈ کے پاس ان وسائل کی خاصی مقدار موجود ہے۔ یہ معدنیات مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔