’مجھے بچالو، میں مرنا نہیں چاہتا‘، گل پلازہ میں پھنسے نوجوان کی اہل خانہ سے آخری گفتگو
گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد ریسکیو آپریشن دوسرے روز میں داخل ہوگیا۔ عمارت کے باہر اس وقت بھی لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اپنوں کی واپسی کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔
متاثرہ عمارت کے باہر موجود ایک خاتون نے آج نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا 22 سالہ کزن گل پلازہ میں فرنیچر کی دکان میں کام کرتا تھا۔
ان کا بچے سے ہفتے کی رات آخری بار رابطہ ہوا تھا۔ وہ مسلسل مدد کے لیے پکار رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ عمارت میں دھواں بھر چکا ہے، مجھے بچالو، میں مرنا نہیں چاہتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ عمارت کے جس حصے میں کزن کی دکان واقع تھی، وہ حصہ ان کے سامنے منہدم ہوا ہے۔ اب اس کے بچنے کی کوئی امید نظر نہیں آرہی ہے۔
کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں ہفتے کی رات لگنے والی ہولناک آگ پر تاحال مکمل قابو نہیں پایا جاسکا ہے۔
درجنوں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن تیز کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔
وزیرِاعلیٰ سندھ نے پیر کو کانفرنس میں بتایا کہ فی الحال آتشزدگی کی وجوہات کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔
دوسری جانب گل پلازہ کے باہر ابھی بڑی تعداد میں متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی زندہ واپسی کے منتظر ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ ریسکیو آپریشن بروقت کیا جاتا تو کئی لوگوں کی جان بچ سکتی تھی۔