شائع 19 جنوری 2026 12:33pm

پاکستانی چاولوں کی دھوم، دنیا کا تیسرا بڑا برآمد کنندہ بن گیا

ملکی زرعی شعبے کے لیے سال 2026 کا آغاز خوشخبری کے ساتھ ہوا ہے، کیونکہ پاکستان نے چاول کی برآمدات میں ریکارڈ کامیابی حاصل کر کے دنیا میں تیسری پوزیشن حاصل کر لی ہے۔

بین الاقوامی جریدے گلف نیوز نے بھی پاکستانی چاول کی عالمی سطح پر پذیرائی کی تصدیق کی ہے، جس سے ملکی معیشت اور زرعی شعبے کو مضبوط تقویت ملنے کی توقع ہے۔

دسمبر 2025 میں پاکستانی چاول کی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر 14 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے عالمی منڈی میں پاکستان کی مضبوط موجودگی کو اجاگر کیا۔

خاص طور پر باسمتی چاول کی برآمدات میں 50 فیصد سے زائد غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو اس کامیابی میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ پاکستان نے 4 لاکھ 89 ہزار ٹن چاول برآمد کیے، جبکہ اسی عرصے میں ویتنام کی برآمدات 3 لاکھ 87 ہزار ٹن رہیں۔

اس شاندار کارکردگی کے نتیجے میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن پر آ گیا ہے۔ پاکستانی چاول سب سے زیادہ متحدہ عرب امارات، چین، تنزانیہ، کینیا اور آئیوری کوسٹ کو برآمد کیے گئے۔

زرعی ماہرین کے مطابق پاکستانی باسمتی چاول کا اعلیٰ معیار اور مسابقتی قیمتیں بین الاقوامی منڈیوں میں اعتماد کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں۔

ماہرین نے کہا کہ چاول کی برآمدات میں یہ مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے اور زرعی شعبے کو مزید فروغ دے گا۔

باسمتی چاول کی اہمیت

باسمتی چاول کی برآمدی قیمت غیر باسمتی چاول سے زیادہ ہے۔ اس کی طلب مشرق وسطیٰ اور یورپ میں مضبوط ہے۔ یہ کم قیمت بھارتی چاول کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی بڑھانے میں مددگار ہے۔ پاکستان کی عالمی برآمدی درجہ بندی کو بلند کرتا ہے۔

Read Comments