پاکستان سُپر لیگ کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جس کے تحت کھلاڑیوں کی سلیکشن کا موجودہ نظام ختم کرکے آکشن سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے۔ پی ایس ایل انتظامیہ کے مطابق ان تبدیلیوں کا مقصد لیگ کو مزید شفاف، متوازن اور تجارتی طور پر مضبوط بنانا ہے۔
لاہور میں پی ایس ایل انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اعلان کے مطابق آئندہ سیزنز میں کھلاڑیوں کی سلیکشن آکشن کے ذریعے کی جائے گی، جس سے تمام ٹیموں کو متوازن بنانے میں مدد ملے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ آکشن سسٹم کے تحت کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق زیادہ کمائی کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
انتظامیہ کے مطابق ہر کیٹیگری میں صرف ایک کھلاڑی شامل کیا جائے گا، جبکہ مینٹورز، برانڈ ایمبیسڈر اور رائٹ ٹو میچ جیسے قوانین کو ختم کرنے کا فیصلہ بھی کرلیا گیا ہے۔ نئی شامل ہونے والی دو ٹیموں کو چار چار کھلاڑی منتخب کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ مسابقتی ٹیم تشکیل دے سکیں۔
ہر فرنچائز کو ایک انٹرنیشنل کھلاڑی کو ڈائریکٹ سائن کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے، ڈائریکٹ سائننگ کے لیے اہل بین الاقوامی کھلاڑی کے لئے لازمی ہوگا کہ وہ 2025 ایڈیشن کا حصہ نہ رہا ہو۔
اس کے علاوہ آکشن میں استعمال کرنے کے لیے ہر ٹیم کا سیلری کیپ 16 لاکھ ڈالرز تعین کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ کا آغاز 26 مارچ سے ہوگا، جبکہ لیگ کے کچھ میچز اقبال اسٹیڈیم فیصل آباد میں بھی کھیلے جائیں گے۔
انتظامیہ کے مطابق ان اصلاحات سے لیگ کے معیار میں بہتری آئے گی اور شائقین کرکٹ کو زیادہ دلچسپ اور مسابقتی مقابلے دیکھنے کو ملیں گے۔