گوئٹے مالا جیل فسادات: قیدیوں نے تین جیلوں میں درجنوں اہلکار یرغمال بنا لیے
جیل کے درجنوں پولیس اہلکاروں کو قیدیوں کے بنرغے سے چھڑائے جانے کے بعد گوئٹے مالا کے صدر نے اتوار کو ملک میں محاصرہ (State Of Siege) نافذ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ ہی ہفتے کے آخر میں ہونے والے گینگ تشدد کا بھی خاتمہ ہوا، جس میں کم از کم سات پولیس اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے تھے۔
اسٹیٹ آف سیج کا مطلب ہے محاصرہ کی حالت یا ہنگامی محاصرانہ صورتحال۔ یہ اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کسی ملک، شہر یا علاقے کو شدید خطرات کا سامنا ہو، جیسے جنگ، بڑے پیمانے پر دہشت گردی، بغاوت یا انتہائی سنگین امن و امان کی صورتحال۔ اس حالت میں عام طور پر سویلین حکومت کے اختیارات محدود کر دیے جاتے ہیں اور فوج یا سیکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اختیارات دے دیے جاتے ہیں۔
اسٹیٹ آف سیج کے دوران حکومت عوام کی نقل و حرکت محدود کر سکتی ہے، کرفیو نافذ کیا جا سکتا ہے، اجتماعات پر پابندی لگ سکتی ہے، میڈیا اور معلومات پر کنٹرول سخت ہو جاتا ہے، اور بعض شہری حقوق عارضی طور پر معطل کیے جا سکتے ہیں تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
سادہ الفاظ میں اسٹیٹ آف سیج وہ حالت ہوتی ہے جب ریاست یہ سمجھتی ہے کہ معمول کے قوانین سے صورتحال کنٹرول نہیں ہو پا رہی، اس لیے غیر معمولی اور سخت اقدامات ضروری ہو گئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ہنگامہ آرائی کرنے والے قیدیوں نے ہفتے کے روز تین مردوں کی جیلوں میں 46 جیل اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
حکومت نے ان فسادات کا الزام گینگ بیریو 18 پر عائد کیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ جیلوں میں اپنے ارکان کے لیے مزید مراعات حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔
جب سیکیورٹی فورسز نے اس جیل پر دوبارہ قبضہ حاصل کیا جہاں گینگ کا سربراہ الدو ڈپی قید تھا، تو اس کے بعد گینگ کے افراد نے گوئٹے مالا سٹی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں پولیس پر حملے شروع کر دیے۔ اس دوران گینگ کے سربراہ کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
بعد ازاں صدر برنارڈو آریوالو نے 30 روزہ اسٹیٹ آف سیج کا اعلان کیا، جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس سے ریاست کی پوری طاقت، بشمول پولیس اور فوج، کو گینگ تشدد کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت ملے گی۔
گوئٹے مالا کے قانون کے تحت، اسٹیٹ آف سیج کے نفاذ سے عوامی نظم و نسق کو لاحق خطرات کے جواب میں شہری آزادیوں کو عارضی طور پر محدود یا معطل کیا جا سکتا ہے اور سیکیورٹی فورسز کے اختیارات میں توسیع کی جا سکتی ہے۔
گوئٹے مالا کی کانگریس نے اکتوبر 2025 میں بیریو 18 کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا، جو اس وقت کے فوراً بعد ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس گینگ کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پر فہرست میں شامل کیا تھا۔