اپ ڈیٹ 18 جنوری 2026 03:59pm

امریکی افواج کا انخلا، عراق نے اپنے بیس کا کنٹرول سنبھال لیا

عراق کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے مغربی عراق میں واقع عین الاسد ایئر بیس سے مکمل طور پر انخلا کر لیا ہے، جس کے بعد عراقی فوج نے اس اہم فضائی اڈے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

وزارتِ دفاع کے مطابق یہ اڈہ طویل عرصے سے امریکا کی قیادت میں قائم اتحاد کی افواج کے زیرِ استعمال تھا، تاہم اب تمام عسکری اور انتظامی اختیارات عراقی فورسز کے پاس منتقل ہو چکے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ یہ پیش رفت عراق کی خودمختاری اور سکیورٹی کنٹرول کے عمل کا حصہ ہے۔ یاد رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان ایک مفاہمت طے پائی تھی ۔

رپورٹ کے مطابق اب امریکی افواج اپنی توجہ شام میں موجود داعش کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیوں پر مرکوز کریں گی۔

دوسری جانب عراقی وزارتِ دفاع نے ہفتے کو اعلان کیا کہ عین الاسد ایئربیس کا مکمل کنٹرول عراقی فوج نے سنبھال لیا ہے۔

عراق کے جوائنٹ آپریشنز کمانڈ کے نائب سربراہ قیس المحمداوی پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ حکومت کی اہم ترجیح ملک سے بین الاقوامی اتحاد کی موجودگی ختم کرنا اور دو طرفہ سکیورٹی معاہدوں کی طرف بڑھنا ہے۔ وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے ستمبر میں کہا تھا کہ اب 86 ممالک کی افواج کی عراق میں موجودگی کی ضرورت باقی نہیں رہی کیونکہ اتحاد کے قیام کا مقصد ختم ہو چکا ہے۔

یاد رہے کہ 2024 میں واشنگٹن اور بغداد کے درمیان امریکی قیادت میں کام کرنے والے اتحاد کے تدریجی انخلا اور دو طرفہ دفاعی تعلقات کے قیام پر مفاہمت ہو چکی تھی۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق سیکڑوں فوجیوں نے ستمبر 2025 تک واپس جانا تھا جبکہ مکمل انخلا 2026 کے آخر تک ہونا تھا، تاہم تازہ پیش رفت کے بعد عمل تیز دکھائی دیتا ہے۔

عین الاسد ایئربیس کئی برسوں سے امریکی اور اتحادی افواج کا اہم مرکز رہی ہے اور اسے ماضی میں ایران نواز مسلح گروہوں کی جانب سے متعدد حملوں کا سامنا بھی رہا، خاص طور پر 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد کشیدگی کے دوران۔

ایک عراقی فوجی کرنل نے بھی تصدیق کی کہ امریکی افواج نے بیس چھوڑ دی ہے، تاہم چند اہلکار لاجسٹک معاملات کی وجہ سے عارضی طور پر موجود ہیں۔ عراق میں داعش کو 2017 میں شکست دی جا چکی ہے لیکن عراقی فورسز اب بھی اس کے باقی ماندہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

Read Comments