شائع 18 جنوری 2026 01:13pm

سورج میں 10 لاکھ کلومیٹر طویل سوراخ، سائنسدان حیران

روسی سائنسدانوں نے سورج میں ایک انتہائی بڑا کورونل ہول یا سوراخ دریافت کیا ہے جو تقریباً ایک ملین کلومیٹر اونچا ہے اور الٹا نمبر ایک کی شکل رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ سوراخ زمین کی جانب ہے اور اس کے نتیجے میں ایک تیز رفتار شمسی ہوا زمین کی طرف بڑھ رہی ہے، جو مقناطیسی طوفان اور قطبی روشنیوں (auroras) کا سبب بن سکتی ہے۔

پشکوف انسٹی ٹیوٹ آف ٹیریسٹریل میگنیٹزم، آئونوسفیئر اور ریڈیو ویو پروپیگیشن کے ماہرین کے مطابق یہ سوراخ سورج کے 11 سالہ ”سولر مِنی مم“ چکر سے منسلک ہے، جس کا اگلا دور 2029-30 میں شروع ہوگا۔

ماہرین نے بتایا کہ اس سوراخ کی دریافت پچھلے سال دسمبر میں بھی ہوئی تھی، جس کا حجم سورج کے نصف قطر سے بھی بڑا تھا۔

روس کے اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لیبارٹری آف سولر ایسٹرونومی کے سائنسدان توقع کرتے ہیں کہ اس سال مقناطیسی طوفان بڑھ سکتے ہیں اور یہ عمل 2028 تک جاری رہنے کا امکان ہے۔

اس دوران سورج سے خارج ہونے والی پلازما کی لہریں 60 ڈگری سے زیادہ عرض البلد والے علاقوں میں قطبی روشنیوں پیدا کرسکتی ہیں اور ریڈیو یا بجلی کے نظام میں مختصر خلل ڈال سکتی ہیں۔

ماہرین نے مزید بتایا کہ سورج پر موجود دھبے اور گروہ چند دنوں سے چند ماہ تک زندہ رہ سکتے ہیں، اور ان کی حرکت اور سائز سے شدید مقناطیسی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ دھبے شمسی دھماکوں اور کورونل ماس ایجیکشن کے آغاز کے قریب نمودار ہوتے ہیں، جو زمین پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

Read Comments