سانحہ گُل پلازہ : ’کاروباری مقامات پر حفاظتی انتظامات نہ ہونا ناقابلِ قبول ہے‘
کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگنے والی آگ خوفناک آتشزدگی کے واقعے پر ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سنگین انسانی سانحہ قرار دیا ہے۔ حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع، فائر فائٹر کے جاں بحق ہونے اور متعدد افراد کے زخمی ہونے پر رہنماؤں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
واقعے پر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے کہا ہے کہ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے اور گل پلازہ جیسے تجارتی مراکز میں حفاظتی انتظامات کا فقدان ناقابل قبول ہے۔ بیان میں حکومت سندھ اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ دونوں ادارے بروقت ریلیف پہنچانے میں ناکام نظر آئے۔
ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد اور زخمیوں کو مکمل علاج کی سہولت فراہم کی جائے، جبکہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعات اور حفاظتی خامیوں کے تدارک کے لیے فوری اور جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی۔ حافظ نعیم الرحمان نے فائر فائٹر کے جاں بحق ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہوئے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور الخدمت فاؤنڈیشن کو فوری طور پر ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ہدایت کی۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے بھی گل پلازہ آتشزدگی کے واقعے پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی دلخراش سانحہ قرار دیا۔
منعم ظفر نے کہا کہ کراچی میں مؤثر حفاظتی اور انتظامی اقدامات کا فقدان شدید تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے اور متاثرین کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کراچی کے شاپنگ مال میں آتشزدگی کے واقعے پر قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور تمام تر ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے آگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وفاقی سطح پر سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔
گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے پر مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان نے متاثرہ مقام کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر انہوں نے سانحے کو شہری انتظامیہ کی صریح ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی حقیقی معنوں میں ایک لاوارث شہر بن چکا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احمد ندیم اعوان کا کہنا تھا کہ ملک کو چلانے والا شہر آج خود بے یار و مددگار ہے اور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کا سانحہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہری انتظامیہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق آتشزدگی کے اس افسوسناک واقعے نے حکومتی بے حسی کو کھل کر آشکار کر دیا ہے۔
صدر مرکزی مسلم لیگ کراچی نے بتایا کہ سانحے کے فوری بعد مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار رات بھر امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ رضاکاروں نے زخمی شہریوں کو متاثرہ عمارت سے نکال کر فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا اور ہر ممکن مدد فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں خدمت خلق ہی اصل سیاست ہے اور مرکزی مسلم لیگ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
احمد ندیم اعوان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کا سانحہ صرف ایک عمارت کا حادثہ نہیں بلکہ پورا کراچی اس واقعے پر افسردہ اور سوگوار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ گل پلازہ کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے۔
انہوں نے ریسکیو اداروں پر زور دیا کہ متاثرہ عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور آگ پر جلد از جلد قابو پا کر مزید جانی نقصان سے بچاؤ کو اولین ترجیح بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی اور شہری حکومتیں فائر بریگیڈ اور ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنائیں۔
اُدھر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صدر گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔
صدر کے مصروف کاروباری علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے غفلت یا لاپرواہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں کو حکم دیا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور کراچی کی تمام کمرشل عمارتوں میں ہنگامی بنیادوں پر فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا کہ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
اُدھر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے فوری بعد تمام صوبائی ادارے متحرک ہوگئے اور امدادی سرگرمیاں تیز کردی گئیں۔
ان کے مطابق 40 سے زائد اسنارکلز آگ بجھانے اور ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں جبکہ 60 فیصد سے زائد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اولین ترجیح عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت نکالنا اور مکمل طور پر آگ بجھانا ہے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی گل پلازہ کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدرِ مملکت نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
وزیراعظم نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ تاجروں کو ہر ممکن امداد دینے کی ہدایت کی ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اس سانحے میں حکومت کی تمام تر ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔