تاجروں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کریں گے: وزیراعلیٰ سندھ
کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگنے والی آگ خوفناک آتشزدگی کے واقعے پر ملک کی سیاسی و مذہبی قیادت نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک سنگین انسانی سانحہ قرار دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کی جامع انکوائری کا اعلان کرتے ہوئے تاجروں کو نقصان کے ازالے کی یقین دہانی کی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے گل پلازہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جانی نقصان کا کوئی ازالہ نہیں ہوسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی جائے گی کہ بولٹن مارکیٹ اور ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین کی طرح گل پلازہ کے متاثرین کے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ ایک 40 سال پرانی عمارت ہے جہاں پورے کراچی سے لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں اور یہاں ایک ہزار سے زائد دکانیں موجود تھیں۔ اس وقت تک 58 کے قریب افراد لاپتہ ہیں اور دعا ہے کہ تمام لاپتہ افراد خیریت سے مل جائیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ حادثے کے وقت وہ شہر میں موجود نہیں تھے اور شام 5 بجے کے قریب کراچی واپس پہنچے ہیں۔ انہیں گزشتہ رات دیر سے اطلاع ملی تھی، وہ کمشنر کراچی اور ڈپٹی میئر سے مسلسل رابطے میں تھے اور چیف سیکریٹری نے بھی انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے ابھی تک مجھ سے رابطہ نہیں کیا ہے۔ آگ بجھانے کیلیے مزید کسی ادارے کی ضرورت ہوئی تو رابطہ کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 10 بج کر 16 منٹ پر فائر بریگیڈ کو آگ کی اطلاع موصول ہوئی اور 11 منٹ بعد پہلا فائر ٹینڈرگل پلازہ پہنچ چکا تھا۔ اس کے باوجود اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی اور کوئی قصوروار ہوا تو اس کے خلاف ایکشن لیا جائے گا۔
اس سے قبل صدرمملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے گل پلازہ میں آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرین کو ہرممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
صدرآصف علی زرداری نے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابرکے شریک ہیں۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھ حکومت اورمتعلقہ ادارے متاثرہ افراد اور تاجروں کو فوری اور ہرممکن امداد فراہم کریں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
وزیراعظم نے متاثرہ تاجروں اور دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے کام کریں، وفاقی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں شریک ہیں اور تمام تر ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صدر گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے غفلت یا لاپرواہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں اور کراچی کی تمام کمرشل عمارتوں میں ہنگامی بنیادوں پر فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔
سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کے فوری بعد تمام صوبائی ادارے متحرک ہیں اور امدادی سرگرمیاں تیز کردی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت عمارت میں پھنسے افراد کو بحفاظت ریسکیو کرنا اور آگ پر مکمل قابو پانا اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وفاق سندھ حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی جانب سے جاری بیان میں سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے۔ سندھ حکومت اور بلدیہ عظمیٰ کراچی دونوں بروقت ریلیف پہنچانے میں ناکام نظر آئے۔
ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ جاں بحق افراد کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد اور زخمیوں کو مکمل علاج کی سہولت فراہم کی جائے، جبکہ کراچی میں آتشزدگی کے واقعات اور حفاظتی خامیوں کے تدارک کے لیے فوری اور جامع منصوبہ تشکیل دیا جائے۔۔
جماعت اسلامی کے مرکزی امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوس ناک ہے۔
انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ حافظ نعیم الرحمان نے ریسکیو آپریشن کے دوران فائر فائٹر کے جاں بحق ہونے پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔
دوسری جانب معروف سماجی شخصیت مولانا بشیر فاروقی نے گل پلازہ متاثرین کے لیے راشن اور بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔
مولانا بشیر فاروقی نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ دکھ کی گھڑی میں متاثرہ دکانداروں، ملازمین اور خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیامیں آگ لگنے کے واقعات پر جدید فائرفائٹنگ سسٹم کام کرتا ہے، پاکستان کو بھی اس نظام کی طرف جانا پڑے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں بھی حکومت آگ بجھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنائے۔
مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان نے بھی متاثرہ مقام کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے اس سانحے کو شہری انتظامیہ کی صریح ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی حقیقی معنوں میں ایک لاوارث شہر بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سانحے کی اطلاع ملتے ہی مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار رات بھر امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے اور زخمی شہریوں کو متاثرہ عمارت سے نکال کر فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا اور ہر ممکن مدد فراہم کی۔