شائع 18 جنوری 2026 11:37am

خلا بازوں کے دماغ سے جڑی حیرت انگیز سائنسی حقیقت سے متعلق اہم انکشاف

خلا بازوں کے دماغ سے جڑی حیرت انگیز حقیقت سے متعلق اہم انکشاف ہوا ہے۔ وزن کے احساس سے خالی ماحول یعنی مائیکرو گریویٹی میں قیام انسانی جسم پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، تاہم سائنسدانوں نے اب ایک ایسا نیا انکشاف کیا ہے جو یہ وضاحت کر سکتا ہے کہ خلا باز زمین پر واپس آکر خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے میں مشکلات کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ویب سائٹ سائنس الرٹ نے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق خلا میں چند ہفتے گزارنے کے بعد ہی خلا بازوں کے دماغ کی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جبکہ طویل خلائی سفر کی صورت میں یہ اثرات کم از کم چھ ماہ تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تبدیلیاں معمولی ہوتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ چند ملی میٹر تک محدود رہتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کچھ خلا باز زمین کی پر واپسی کے بعد اپنا توازن بحال کرنے کے لیے طویل جدوجہد کرتے ہیں۔

فلوریڈا یونیورسٹی کی ماہرِ فعلیات راشیل سیڈلر کی سربراہی میں محققین کی ٹیم نے بتایا کہ خلا کے سفر جیسے ماحول کے بعد کھوپڑی کے اندر دماغ کی جگہ میں ہمہ گیر تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ خلائی سفر کے دوران انسانی جسم میں موجود رطوبتیں کششِ ثقل کے بغیر خود کو زیادہ مساوی انداز میں تقسیم کرنے لگتی ہیں، جس کے نتیجے میں کھوپڑی کے اندر دماغ کی پوزیشن متاثر ہوتی ہے۔

سابقہ مطالعات سے یہ بات سامنے آچکی ہے کہ خلا بازوں کے دماغ کے وزن کا مرکز خلائی سفر کے بعد کھوپڑی کے اندر اوپر کی جانب منتقل ہو جاتا ہے، جو سفر سے قبل کی پیمائشوں کے مقابلے میں واضح فرق ظاہر کرتا ہے۔

مزید شواہد سے معلوم ہوا کہ دماغ کے اندر تبدیلیاں بعض اوقات غیر معمولی رخ اختیار کر سکتی ہیں۔ 2015 میں کی گئی ایک تحقیق میں سر نیچے کی جانب جھکی حالت میں بستر سے باندھے گئے افراد کا مشاہدہ کیا گیا، جس میں دماغ کے مرکزِ ثقل اور بعض حصوں کے حجم میں تبدیلیاں نوٹ کی گئیں۔

سیڈلر اور ان کی ٹیم کی باریک بینی سے کی گئی پیمائشوں سے معلوم ہوا کہ خلائی سفر کے دوران دماغ کھوپڑی کے اندر اوپر اور پیچھے کی جانب حرکت کرتا ہے، جبکہ ایک معمولی دائروی انداز میں پیچھے کی جانب جھکاؤ بھی دیکھا گیا۔ یہ نتائج سابقہ تحقیقات سے ہم آہنگ ہیں۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دماغ میں ہونے والی تبدیلیاں پورے دماغ میں یکساں نہیں ہوتیں بلکہ مختلف حصوں میں مختلف سمتوں میں ظاہر ہوتی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دماغ کی مجموعی حرکت کے ساتھ ساتھ اس کی شکل میں بھی تبدیلی آ رہی ہوتی ہے۔ سب سے نمایاں تبدیلیاں ان خلا بازوں میں دیکھی گئیں جنہوں نے ایک سال خلا میں گزارا، جہاں یہ فرق 2 سے 3 ملی میٹر تک ریکارڈ کیا گیا۔

مزید یہ کہ دماغ کے بطون (Ventricles) جو رطوبتوں سے بھری جھلیاں ہوتی ہیں، کششِ ثقل نہ ہونے کی صورت میں اوپر کی جانب حرکت کرتے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان تبدیلیوں میں جسمانی رطوبتوں کی دوبارہ تقسیم کا کردار نمایاں ہے۔

ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں کا تعلق شخصیت، ذہانت یا ادراک میں کسی براہِ راست تبدیلی سے نہیں پایا گیا، بلکہ زیادہ اثر دماغ کے ان حصوں پر پڑا جو جسم کی جگہ اور خلا میں اس کی حرکت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ تبدیلیاں دماغ کے پچھلے انسولر لوب میں دیکھی گئیں، جو توازن کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ اسی حصے میں شدید تبدیلیاں زمین پر واپسی کے بعد توازن کے بگڑنے سے منسلک پائی گئیں۔ خلا باز عموماً لینڈنگ کے بعد کئی دنوں یا ہفتوں تک عدم استحکام کی شکایت کرتے ہیں، جبکہ حسی و حرکی بحالی کا عمل کئی مہینوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

Read Comments