اپ ڈیٹ 18 جنوری 2026 01:45pm

حکومت نااہلی چھپا رہی ہے، عمارت میں فائر سیفٹی کا مکمل انتظام تھا: گُل پلازہ ایسوسی ایشن صدر

کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گُل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی شدید آگ کے بعد جہاں ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں وہیں گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر قاسم نے عمارت میں وینٹی لیشن نہ ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حکومتی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

تنویر قاسم نے آج نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے عمارت میں وینٹی لیشن کا مناسب انتظام نہیں تھا۔

ان کے مطابق مارکیٹ میں تقریباً 16 داخلی و خارجی دروازے، 12 کھڑکیاں، ایمرجنسی ایگزٹ ریمپ، مسجد کی جانب چار دروازے اور مکمل وینٹی لیشن سسٹم موجود تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لیے وینٹی لیشن کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آگ لگنے کے سوا گھنٹے بعد تک کوئی مؤثر ریسکیو ادارہ موجود نہیں تھا۔ جس کے باعث تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کارروائی شروع کی۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 سے 250 افراد کو ایمرجنسی ریمپ کے ذریعے خود باہر نکالا گیا، گراؤنڈ فلور مکمل طور پر خالی کروایا گیا جبکہ میزنائن فلور پر پھنسے افراد کو نکالنے کی بھی کوشش کی گئی، تاہم وہاں کوئی ریسکیو اہلکار جانے کو تیار نہیں تھا۔

تنویر قاسم نے کہا کہ ہم رات بھر تاجر بے یار و مددگار کھڑے رہے، ریسکیو 1122 کی کوئی ٹیم لوگوں کو نکالنے کے لیے اندر نہیں گئی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہر دس منٹ بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کا پانی ختم ہو جاتا یا کسی نہ کسی تکنیکی خرابی کا سامنا ہو جاتا۔

تنویر قاسم نے کہا کہ ’ہر دس منٹ بعد ان کا ڈیزل کا یا اسپارکلر کو کوئی مسئلہ آجاتا تھا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’دس بج کر دس منٹ پر یہاں آگ لگی، ہم نے اسی وقت کے الیکٹرک سے بجلی شٹ ڈاؤن کروا کر آگ بجھانے والی گاڑیوں کو کال کی، سوا گھنٹے کے بعد گاڑیاں پہنچی ہیں، جب تک ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت فائر بال، آگ بجھانے والے سلینڈرز اور پانی سے اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کی۔ سوا گھنٹے بعد ایک گاڑی تقریباً سوا گیارہ بجے پہنچی اس میں بھی دس منٹ بعد پانی ختم ہوگیا‘۔

تنویر قاسم نے بتایا کہ گل پلازہ کے نقشے میں میزنائن، فرسٹ اور سیکنڈ فلور پر 24 وینٹی لیشن ڈکٹس، چھ سیڑھیاں اور 16 ان اور آؤٹ گیٹس واضح طور پر موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس عمارت کا فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے، اس کے باوجود ذمہ داری عمارت پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے ریسکیو اہلکاروں کی حالت پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ کئی اہلکاروں کے پاس ماسک تک موجود نہیں تھے، دھوئیں کے باعث وہ اندر جانے سے قاصر تھے۔ ان کے مطابق پوری رات عمارت کے اندر سے کسی کو نکالنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، آدھے سے زیادہ گل پلازہ جھلس کر دھنس چکا ہے، بلڈنگ گر چکی ہے اور اب جو بھی اندر رہ گیا ہے اس کے بچنے کے امکانات انتہائی کم ہو چکے ہیں۔

تنویر قاسم نے بتایا کہ ہفتے کا دن ہونے کے باعث مارکیٹ میں ہزاروں افراد موجود تھے۔ گل پلازہ میں بارہ سو دکانیں ہیں اور اگر ہر دکان میں اوسطاً چار افراد بھی ہوں تو صرف دکانداروں کی تعداد ہی پانچ ہزار کے قریب بنتی ہے، جبکہ اب اندازہ ہے کہ اندر پچاس سے ساٹھ افراد ہی رہ گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو تاجروں نے خود باہر نکالا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اسنارکل موقع پر آیا لیکن فنی خرابی کے باعث ساری رات کھڑا رہا اور کسی کام نہ آ سکا۔ سڑک پر جاری ترقیاتی منصوبے کو گاڑیوں کی تاخیر کی وجہ بتایا گیا، حالانکہ گل پلازہ تک پہنچنے کے لیے تین اطراف سے راستے موجود ہیں۔

دوسری جانب ریسکیو حکام کے مطابق آتشزدگی سے متاثرہ عمارت کا ایک اور حصہ منہدم ہو چکا ہے جس سے ریسکیو آپریشن مزید خطرناک ہو گیا ہے۔ ملبے سے ایک لاش نکالی گئی ہے جس کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ فائر فائٹر تھا، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔

آگ ہفتے کی رات سوا دس بجے گراؤنڈ فلور پر لگی جو تیزی سے میزنائن اور تیسری منزل تک پھیل گئی، جبکہ آگ پر تاحال مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔

فائر بریگیڈ کے مطابق آگ بجھانے کے لیے بیس فائر ٹینڈرز اور چار اسنارکلز کے ساتھ پانی اور فوم کا استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پاک بحریہ کے فائر ٹینڈرز اور ستر جوان بھی ریسکیو میں شریک ہیں۔ شدید دھواں اور گرمی کے باعث اندر جانا خطرناک ہو چکا ہے اور مزید لاشوں کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ کے نتیجے میں چھ افراد جاں بحق اور بیس سے زائد افراد جھلس کر زخمی ہو چکے ہیں جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے اربوں روپے کے نقصان کا بھی تخمینہ لگایا جا رہا ہے اور تاجر خود کو کھلے آسمان تلے بے بس محسوس کر رہے ہیں۔

تنویر قاسم نے کہا کہ ’ہم تباہ و برباد ہوگئے، سڑک پر آگئے، اربوں کا نقصان ہوگیا، نقصان کی بھرپائی تو ہوسکتی ہے لیکن جو جانیں گئی ہیں ان کی بھرپائی کون کرے گا؟‘

انہوں نے کہا کہ ’اربوں روپے ٹیکس دینے والی مارکیٹ ہے یہ اور ہم ابھی بھی کھلے آسمان کے نیچے بے بس اور لاچار کھڑے ہیں‘۔

دوسری جانب سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے آج نیوز سے گفتگو میں کہا کہ یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج ہے۔

شرجیل میمن کے مطابق حادثے کے بعد صوبائی حکومت کا عملہ فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچا اور سرکاری مشینری رات بھر آگ بجھانے میں مصروف رہی۔

شرجیل میمن نے بتایا کہ اس آگ کی شدت میں کپڑا، پلاسٹک، الیکٹرانک اشیاء اور کھلونے موجود ہونے کی وجہ سے اضافہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً ساٹھ فیصد آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور ہماری پہلی ترجیح متاثرین کو محفوظ طریقے سے ریسکیو کرنا ہے۔ آگ لگنے سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ آگ بجھانے کے بعد لگایا جائے گا۔

وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے اب بھی مکمل طور پر جائے وقوع پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بھی آج نیوز سے گفتگو میں کہا کہ آگ پر قابو پانے کے بعد نقصانات کا تخمینہ لگایا جائےگا اور سانحے میں ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔

سعدیہ جاوید کا کہنا تھا کہ حکومتِ سندھ تاجروں اور عوام کے شانہ بشانہ ہے۔

ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) ڈاکٹر عابد جلال الدین نے آج نیوز کو بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ تقریباً سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا، جس کی وجہ سے ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل ہو گیا۔ ان کے مطابق ابتدائی مراحل میں عمارت کے اندر داخل ہونا اور بروقت ریسکیو کرنا مشکل تھا، اور شروع میں پانی کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج بنی۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ٹرین فائر فائٹرز، فائر بریگیڈ کے اہلکار اور جدید اسنارکلز ریسکیو میں فعال ہیں اور فی الحال آپریشن کے لیے کسی ریسورس کی کمی نہیں ہے۔

سی او او نے مزید کہا کہ آگ پر قابو پانے کے بعد ہی حادثے کی مکمل صورتحال اور نقصان کا تعین کیا جا سکے گا، تاہم ریسکیو ٹیموں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر پھنسے ہوئے افراد کو نکالا۔

Read Comments