ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کو ’جعلی خبریں دینے والا ادارہ‘ قرار دے دیا، کارروائی کا عندیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے معروف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کو جعلی خبریں پھیلانے والا ادارہ قرار دیتے ہوئے سخت ردِعمل کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکی ملٹی نیشنل بینکنگ کمپنی جے پی مورگن چیز کے خلاف آئندہ دو ہفتوں میں قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ اخبار نے پہلے صفحے پر ایک مضمون شائع کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے جے پی مورگن چیز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جیمی ڈیمون کو فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کی پوسٹ کی پیشکش کی تھی، جو کہ سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس خبر میں بغیر کسی تصدیق کے یہ تاثر دیا گیا کہ انہوں نے جیمی ڈیمون کو فیڈرل ریزرو کی سربراہی کی پیشکش کی، حالانکہ یہ حقیقت نہیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ یہ رپورٹ من گھڑت اور گمراہ کن ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ادھر جیمی ڈیمون نے اپنے بیان میں کہا کہ مجھے کسی ملازمت کی پیشکش نہیں کی گئی۔
رائٹرز کو بھیجی گئی ایک ای میل میں جے پی مورگن کی ترجمان ٹرش ویکسلر نے کہا تھا کہ انہیں وال اسٹریٹ جرنل کی خبر شائع ہونے سے پہلے اس کی تصحیح میں مزید مستعد ہونا چاہیے تھا۔
اسی روز صدر ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ آئندہ دو ہفتوں میں جے پی مورگن کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق 6 جنوری 2021 کو امریکی کیپیٹل پر ان کے حامیوں کے حملے کے بعد بینک نے مبینہ طور پر انہیں ’’ڈی بینک‘‘ کردیا تھا، یعنی ان کی بینکاری سہولیات ختم کردی گئی تھیں۔
اس حوالے سے جے پی مورگن کی ترجمان ٹرش ویکسلر کا کہنا تھا کہ بینک مخصوص صارفین پر تبصرہ نہیں کرتا، تاہم جے پی مورگن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی شخص کا اکاؤنٹ اس کے سیاسی یا مذہبی عقائد کی بنیاد پر بند نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینک اس بات کو سراہتا ہے کہ موجودہ انتظامیہ سیاسی بنیادوں پر ڈی بینکنگ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور جے پی مورگن ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔