شائع 17 جنوری 2026 10:00am

کرکٹرز کا دفاع مہنگا پڑ گیا، بنگلہ دیشی عہدیدار کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

بنگلادیش کرکٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (سی ڈبلیو اے بی) کے صدر محمد متھن نے انکشاف کیا ہے کہ کھلاڑیوں کے حق میں موقف اختیار کرنے پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ صرف وہ خود بلکہ کچھ قومی ٹیم کے کھلاڑی بھی بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں، جس کے باعث آئندہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت سے متعلق خدشات جنم لے رہے ہیں۔

کرکٹ سے متعلق خبروں کی ویب سائٹ ’کرک بز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے محمد متھن نے کہا کہ انہیں بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے کھلاڑیوں کے خلاف توہین آمیز ریمارکس پر آواز اٹھانے کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق قومی ٹیم کے کھلاڑی آئندہ ماہ شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، تاہم بھارت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث خوفزدہ ہیں۔

محمد متھن نے بتایا کہ انہی خدشات کے پیشِ نظر بنگلادیش نے اپنے لیگ میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی ہے۔

کرکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد متھن نے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا پہلا موقع ہے جب انہیں اس نوعیت کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے بقول وہ کبھی متنازع گفتگو کا حصہ نہیں رہے اور نہ ہی انہوں نے کبھی ملک کے خلاف کوئی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف کرکٹ اور کھلاڑیوں کے مفاد میں بات کر رہے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے میں کوئی ذاتی مسئلہ شامل نہیں، لیکن چونکہ وہ ایک تنظیم کے صدر ہیں، اس لیے اگر وہ کھلاڑیوں کے حقوق پر بات نہ کریں تو اس عہدے کا کوئی مقصد نہیں رہتا۔

ان کا کہنا تھا ملک سے بڑھ کر کوئی نہیں، تاہم کھلاڑیوں کے حقوق کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔

محمد متھن نے انکشاف کیا کہ صرف انہیں ہی نہیں بلکہ بعض دیگر کھلاڑیوں کو بھی جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، تاہم اس بارے میں تاحال بنگلادیش کرکٹ بورڈ کو آگاہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ نامعلوم نمبروں سے آنے والی کالز نہیں اٹھا رہے، لیکن واٹس ایپ پر پیغامات اور وائس نوٹس روکنا ممکن نہیں۔

ان کے مطابق سی ڈبلیو اے بی کے صدر ہونے کی وجہ سے ان کا نمبر میڈیا میں دستیاب ہے، جس کے باعث انہیں زیادہ پیغامات موصول ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دیگر کھلاڑیوں نے بھی مختلف نوعیت کی دھمکیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم انہوں نے تاحال اس معاملے پر بورڈ سے بات نہیں کی۔

محمد متھن نے مزید کہا کہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کس طرح مدد لی جائے، کیونکہ وہ اپنی زندگی میں کبھی کسی قانونی معاملے کے لیے تھانے نہیں گئے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلادیش کی شرکت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد متھن نے کہا کہ کھلاڑیوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور کوئی بھی کھلاڑی جان کو خطرے میں ڈال کر کھیلنے نہیں جانا چاہتا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ کھلاڑی ورلڈ کپ کھیلنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں، کیونکہ ورلڈ کپ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ایونٹ ہوتا ہے۔

متھن کے مطابق انہیں امید ہے کہ بورڈ اور حکومت کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) میں کھلاڑیوں نے میچوں کا بائیکاٹ بھی کیا تھا، جس کی وجہ بی سی بی ڈائریکٹر نجم الاسلام کا بیان تھا۔

نجم الاسلام نے خبردار کیا تھا کہ اگر بنگلادیش ورلڈ کپ سے دستبردار ہوا تو کھلاڑیوں کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جائے گا، اور یہ بھی کہا تھا کہ ادائیگی کے لیے کھلاڑیوں کے پاس کوئی مضبوط جواز موجود نہیں ہے۔

Read Comments